ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 78

۷۸ کیوں نہ نازل کیا جس سے بندوں کو ٹھوکر نہ لگتی۔خدا ایسا کلام کرتا کہ کوئی انسان اس کے متعلق ٹھوکر نہ کھاتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کا کلام تو ایسا ہی ہوتا ہے جسے سارے انسان سمجھ سکتے ہیں لیکن بعض لوگ شرارت سے اور دھوکا دینے کے لئے اس سے کچھ کا کچھ مطلب نکالتے ہیں اور اس سے ان کی کوئی غرض وابستہ ہوتی ہے۔جیسا کہ اب آریہ کہتے ہیں کہ قرآن سے تناسخ ثابت ہوتا ہے روح و مادہ کی ازلیت ثابت ہوتی ہے اور ممکن ہے کچھ عرصہ کے بعد یہ بھی کہہ دیں کہ نعوذ باللہ قرآن میں نیوگ کی تعلیم بھی پائی جاتی ہے۔ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کو کون روک سکتا ہے جو چاہتے ہیں کہتے جاتے ہیں۔پھر اختلاف کا دروازہ کھلا رکھنے سے ایک مقصد انسانی دماغ کی نشوونما بھی ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ * میری اُمت کا اختلاف رحمت ہے آپ کے اس قول کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام میں کچھ باتیں محکمات کی قسم سے بیان کی ہیں اور کچھ متشابہات کی قسم سے۔محکمات سے مراد یہ ہے کہ ان کے معنی گو ایک سے زیادہ کئے جائیں مگر وہ سب کے سب ایک رنگ میں رنگین ہوں اور متشابہات کا یہ مطلب ہے کہ ایسے الفاظ رکھے گئے ہیں جن کے متعدد معنی ہو سکتے ہیں اور بعض ان میں سے بظاہر مخالف نظر آتے ہیں مگر وہ حقیقتا مخالف نہیں یعنی گو یہ ممکن نہیں کہ ایک پر عمل کیا جائے تو دوسرے پر بھی عمل ہو سکے لیکن وہ دونوں معنی شریعت کی نص صریح کے مخالف نہ ہوں گے اور دونوں میں سے کسی پر عمل کرنا ایمان یا اسلام کے لئے نقصان دہ نہ ہوگا جیسے عورتوں کی عدت کے لئے قرآن کریم میں قرء کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی طہر کے بھی ہیں اور حیض کے بھی۔مسلمانوں میں سے ایک کنز العمال جلد ۱۰ حدیث نمبر ۲۸۶۸۶ صفحه ۱۳۶ مطبوعہ حلب ۱۹۷۱ء