ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 70

صرف کر دیا۔ایسے انسان کو خدا نے رسول بنا دیا اور رسول کے لئے یہ شرط رکھدی کہ لا غُلِبَنَ آنَا وَرُسُلِی کہ رسول ضرور ضرور غالب ہوگا۔اگر خدا ہے تو ایسا ہی ہونا ضروری ہے۔اب دیکھو دُنیا نے رسول کریم کے ساتھ کیا کیا۔آپ کے خلاف سارے لوگوں نے زور مارے مگر کیا نتیجہ نکلا ان کی تمام کوششوں کا نتیجہ یہی نکلا کہ آپ نہایت شان کے ساتھ دس ہزار قد دسیوں سمیت مکہ میں پہنچے اور وہی سردار جو آپ پر اتنا ظلم کرتے تھے کہ جب آپ نماز کے لئے خانہ کعبہ میں جاتے تو آپ کو ڈانٹتے آپ پر میلا ڈالتے ، اس وقت یہ سب آپ کے رحم پر تھے۔ایک دفعہ آپ پر اتنا ظلم کیا گیا کہ طائف والوں نے پتھر مار مار کر آپ کا جسم لہولہان کر دیا پھر آپ کے مریدوں کی یہ حالت تھی کہ ان کا بازاروں میں چلنا مشکل تھا۔پس اس بے سروسامانی میں آپ نے خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے کا دعویٰ کیا اور اعلان کر دیا کہ میں کامیاب ہو کر رہوں گا اور دُنیا پر غلبہ پاؤنگا۔خدا تعالیٰ میری مدد کرے گا اور مجھے فتح دے گا۔اگر قوم اس دعوی کو آسانی سے قبول کر لیتی تو کہا جاتا کہ جب قوم نے قبول کر لیا تو غلبہ میں کسی غیر معمولی اعانت کا ہاتھ کیوں سمجھا جائے مگر آپ کے ساتھ قوم نے محبت کا سلوک نہیں کیا، قبولیت کے ہاتھ آپ کی طرف نہیں بڑھائے۔اطاعت کی گردن آپ کے آگے نہیں جھکائی بلکہ ساری کی ساری قوم آپ کے خلاف کھڑی ہوگئی اور معمولی مخالفت نہیں کی بلکہ مخالفت میں قوم نے سارا ہی زور خرچ کر دیا۔قتل کرنے کی کوشش کی۔ساتھیوں میں سے کئی کو شہید کر دیاحتی کہ صحابہ کو ملک سے نکلنا پڑا اور آخر میں خود آپ کو بھی ملک چھوڑ نا پڑا لیکن وہی شخص جسے چند سال پہلے صرف ایک ساتھی کے ساتھ رات کے اندھیرے میں اپنے عزیز وطن کو چھوڑنا پڑا تھا چند سال بعد فاتحانہ حیثیت میں واپس آتا ہے اور آکر ان