ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 69

۶۹ خدا کی صفت عزیز کا ثبوت میں اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو بطور مثال اس وقت پیش کرتا ہوں جن سے معلوم ہو گا کہ اس دنیا کے اوپر ایک ہستی ہے جس کے ارادہ کے ماتحت سب دنیا کا کارخانہ چل رہا ہے اور سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کو لیتا ہوں اگر یہ صفت اپنا کام کرتی ہوئی ثابت ہو جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ خدا ہے۔عزیز کے معنی غالب کے ہیں اور اس صفت کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيز (المجادلة : ۲۲) میں نے یہ مقرر کر دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہمیشہ غالب ہوں گے۔ادھر تو اللہ تعالیٰ یہ اعلان کرتا ہے کہ میرے دین کی تائید کے لئے جو لوگ کھڑے کئے جائیں گے وہ ہمیشہ غالب رہیں گے اور دوسری طرف اس کی یہ سنت ہے کہ بادشاہوں اور طاقتور لوگوں کو نبی نہیں بناتا الا ماشاء اللہ بلکہ انہیں لوگوں میں سے نبی بناتا ہے جو ضعیف اور کمزور ہوتے ہیں جن کے پاس نہ کوئی فوج ہوتی ہے نہ ہتھیار نہ دولت ہوتی ہے نہ جتھا۔ان کو بھیج کر ان کے ذریعہ دنیا کو مفتوح کراتا ہے اور اس طرح دکھا دیتا ہے کہ لاغْلِبَنَّ آنَا وَرُسُلِی بالکل درست اور صحیح ہے۔جن حالات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کو فتح کیا ہے ان کو سامنے رکھ کر کون کہ سکتا ہے کہ خدا کی مدد کے سوا آپ کو یونہی غلبہ حاصل ہوسکتا تھا۔آپ کے پاس نہ مال تھانہ دولت علم۔آپ نہ پڑھے ہوئے تھے۔مال کی یہ حالت تھی کہ ایک ایسی مالدار عورت سے آپ نے شادی کی جو نیک تھی اس نے اپنا مال آپ کو دیدیا اور آپ نے وہ بھی خدا کی راہ میں