ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 57

۵۷ رہے۔یہ نیکی بدی کی پہچان خدا نے بندے کے اندر اپنی ذات پر دلالت کرنے کے لئے ہی رکھی ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوهَا (الشمس :٩) ہم نے انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی نیکی بدی کی پہچان اس کے اندر رکھ دی ہے۔اے۔جے بلفور ایک بہت مشہور فلاسفر گزرا ہے۔اس نے اسی دلیل کو لیا ہے وہ کہتا ہے کہ بعض ایسی چیزیں ہیں جن کو ہم خوبصورت سمجھتے ہیں اور خوبصورت چیزوں کے حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔مگر پتہ نہیں کہ کیوں یہ خواہش انسانوں میں پائی جاتی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اور ہستی ہے جس نے انسانوں میں خواہش رکھی ہے۔اس کا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کی یہی ایک زبر دست دلیل ہے۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ مسیحی ہے اور مسیحی تعلیم کے مطابق تو انسان کی فطرت مسخ شدہ اور گندی ہے پھر نہ معلوم وہ اس سے خدا تعالیٰ کی ہستی پر کس طرح استدلال کرتا ہے۔یہ دلیل تو ایک مسلمان پیش کر سکتا ہے جس کی الہامی کتاب میں یہ دلیل آج سے تیرہ سو سال پہلے بیان کی گئی ہے اور جس کی الہامی کتاب انسان کی فطرت کو پاکیزہ اور لا انتہاء تر قیات کے قابل قرار دیتی ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے ایک چور سے پوچھا کہ چوری کا مال کھانا تمہیں برانہیں معلوم ہوتا ؟ اس نے کہا بُرا کیوں معلوم ہو۔کیا ہم محنت کر کے نہیں لاتے؟ فرماتے تھے میں نے اس بات کو چھوڑ دیا اور اور باتیں کرنے لگ گیا۔پھر جب میں نے سمجھا کہ اب یہ پہلی بات بھول گیا ہوگا۔میں نے اس سے دریافت کیا۔اور باتیں کرتے کرتے کہا چوری کتنے آدمی مل کر کرتے ہیں؟ اس نے کہا کم از کم چار پانچ ہوتے ہیں اور سنار کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے جو مال کو پگھلا دے اور اس کی شکل بدل