ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 282

۲۸۲ رب العالمین کا دوسر اقل مسیح موعود ہیں غرض رسول کریم صفات الہی کا کامل مظہر ہیں مگر مسیح موعود بھی بوجہ اس کے کہ وہ آپ کا کامل ظل ہے آپ کے ٹور کو حاصل کر کے ظلمی طور پر اس مقام کا مظہر ہے اور یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا کہ مجھ پر ایمان لائے بغیر کوئی خدا تک نہیں پہنچ سکتا۔گویا رسول کریم کی اتباع کا صحیح راستہ آپ کو ہی معلوم تھا اور کسی کو نہیں۔آپ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے لوگوں کے لئے راہنما تھے کیونکہ مقام محمد سی کی ترقی کا آخری نقطہ آپ تھے اور درمیانی اولیاء امت محمدیہ کو آپ ہی کے نقطہ کی طرف لا رہے تھے اور آپ پہلی قوموں کے لئے اس لئے بھی تربیت کرنے والے ہیں کہ آپ کے ہاتھ پر ہی اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں کی پیشگوئیوں کو پورا کر کے ان کی سچائیوں کو ظاہر کیا اور آپ ہی کے ذریعہ سے سب دنیا کے نبیوں کی تصدیق کرائی اور تعصب قومی کو دور کرایا گیا آپ ہی نے کرشن اور رام چندر کی صداقت کو ظاہر کیا جس طرح کہ دوسرے نبیوں کی صداقت کو آپ نے ظاہر کیا۔گو کہ اس وجہ سے آپ پر کفر کا فتوی بھی لگا لیکن جو کچھ ہے ظلی ہے ورنہ حقیقی طور پر جو شخص اگلوں پچھلوں پر روشنی ڈالتا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجودہی ہے۔جو شخص اس مقام پر پہنچ جاتا ہے اس پر اس مقام کی نسبت سے رب العالمین کی صفت نازل ہوتی ہے اور وہ اس طرح کہ تب یہی عالمین قرار دیدیا جاتا ہے اور خدا اس کا رب ہو جاتا ہے۔جو شخص اس سے تعلق کرتا ہے خدا تعالیٰ کی کامل ربوبیت کا وہی مستحق ہوتا ہے اور جو اس سے قطع تعلق کرے وہ گویا خدا کے عالموں میں سے نکل جاتا ہے یعنی اس کی کامل ربوبیت نہیں ہوتی اور اس نکتہ میں کفر اور اسلام کا راز مضمر ہے