ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 276

اور اگر کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو عیب نکالنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔وہ عیب کو تو دیکھتے ہیں مگر خوبیوں کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض کا رکن شست ہو جاتے ہیں۔اگر حوصلہ بڑھایا جائے تو سب کا رکن کام کرنے لگ جائیں۔پس جو کام کریں ان کی قدر کرنی چاہئے۔میں خصوصا قادیان کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ کام کرنے والوں کی قدر کی عادت ڈالو۔لوگوں کی فکروں، ذمہ داریوں اور مشکلوں کو نہ دیکھنا اور اعتراض کرتے جانا صفت رحیمیت کے خلاف ہے۔پس رحیمیت کو پیدا کرو اور اس کا استعمال ہر ایک شخص کر سکتا ہے، غریب سے غریب بھی کر سکتا ہے۔خاص اپنے متعلق بھی اور عام بھی کہ جو اچھا کام کرتا ہے اس کی تعریف کر دی جائے۔پھر علاوہ تعریف کے خدا کے ہاں اس کے لئے دُعا مانگو کہ وہ اچھا کام کر رہا ہے میرے پاس تو اسے دینے کیلئے کچھ نہیں اے خدا ! تُو ہی اپنے پاس سے اسے دے۔غرض مزدور اپنے آقا کا زیادہ کام کرے اور آقا مزدور کو مزدوری سے زیادہ دے۔پھر جو دین کا کام کرنے والے ہیں ان کے کام کی قدر کی جائے اور اس سے بھی بڑھ کر تعریف کی جائے جتنا کہ وہ کام کرتے ہیں۔نیکی پر خوشی کا اظہار کیا جائے تب جا کر صفت رحیمیت سے مناسبت پیدا ہوتی ہے اور خدا سے تشابہ پیدا ہوتا ہے اور غیریت جاتی رہتی ہے اور جنس کو جنس سے تعلق ہو جاتا ہے اور یہ صفت خدا تعالیٰ کو انسان کی طرف کھینچتی ہے اور اس کی صفت رحیمیت انسان پر جلوہ کرتی ہے اور اس جلوہ کے ماتحت اس کا ثواب بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔وہ نماز ایک پڑھتا ہے تو ثواب ننو کا ہوتا ہے اور اس طرح وہ کہیں کا کہیں نکل جاتا ہے لیکن جو خود رحیم نہیں ہوتا وہ خواہ سارا دن نماز پڑھتا