ہستی باری تعالیٰ — Page 275
۲۷۵ دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود سنایا کرتے تھے کہ ایک عورت نے ایک انگوٹھی بنوائی وہ اسے دوسری عورتوں کو دکھانے کی بہت کوشش کرتی رہی مگر کسی نے توجہ نہ کی۔آخر اس نے اپنے مکان کو آگ لگا دی اور جب عورتیں افسوس کرنے کے لئے اس کے پاس آئیں اور پوچھا کچھ بچا بھی تو کہنے لگی اس انگوٹھی کے سوا اور کچھ نہیں بچا۔ایک عورت نے پوچھا یہ تم نے کب بنوائی تھی؟ یہ تو بہت ہی خوبصورت ہے اس نے کہا اگر کوئی پہلے یہی بات کہہ دیتا میرا گھر کیوں جلتا۔غرض صرف منہ کی بات بھی بڑا اثر رکھتی ہے۔کسی کو ایک کام کرنے پر سور و پیہ دو لیکن ساتھ ہی اس کی مذمت کر دو تو اسے بھی خوشی نہ حاصل ہوگی یا چپ رہو تو بھی اس کا حوصلہ پست ہو جائے گا۔پس جو قو میں خدا کی رحیمیت کو جذب کرنا چاہتی ہیں، ان کا کام ہے کہ خود رحیم بنیں، جو اُن کے کارکن ہوں ان کی قدر کریں ، ان کے کام کی تعریف کریں۔زبان سے بدلا دینا معمولی بات نہیں ہوتی بلکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں مگر اس پر عمل کرنے میں کسی کا کچھ خرچ نہیں ہوتا۔جو کوئی مفید کام کرتا ہے تمہارا فرض ہے کہ اس کی تعریف کرو۔ہماری جماعت میں ابھی یہ بات پیدا نہیں ہوئی۔ایک شخص ولایت میں دین کی خدمت کر رہا ہوتا ہے اس کی بیوی بچے یہاں پڑے ہوئے ہوتے ہیں جیسے تمہاری بیویوں کو خواہشات ہوتی ہیں اسی طرح اس کو بھی ہوتی ہے مگر اس کی بیوی تنہا سوتی اور تنہا ہی اُٹھتی ہے۔اس کے بچے لاوارثوں کی طرح باپ کی محبت کو ترس رہے ہوتے ہیں کوئی ان کے پاس نہیں ہوتا۔ادھر مبلغ اپنی جگہ پر تنہا ہوتا ہے وہ دین کا کام کر کے جب اپنے مکان میں جاتا ہے تو اسے یہ توقع نہیں ہوتی کہ مکان میں کوئی اس کی ضروریات کو پورا کرنے والا ہوگا بلکہ اسے خود ہی آکر سب کچھ کرنا پڑتا ہے مگر لوگ ان باتوں کی ذرہ بھر بھی قدر نہیں کرتے