ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 266

۲۶۶ اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ بندہ کس طرح ان صفات کو اختیار کرے؟ اور یہ سوال نہایت اہم اور قابل توجہ ہے۔پہلا جس قدر مضمون تھا وہ درحقیقت اس مضمون کے لئے بطور تمہید کے تھا۔بندہ کا ملک یوم الدین بننا یا درکھنا چاہئے کہ بندہ سب سے پہلے ملک یوم الدین کی صفت کو حاصل کر سکتا ہے ملک یوم الدین کے معنی ہیں جزا و سزا کا فیصلہ کرنا اور حج بنا۔اس کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ بندہ کے اندر جج بننے کی قابلیت ہے یا نہیں۔سو ہم جب انسان کی قوتوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر بندہ ملک یوم الدین ہے اور وہ اس طرح کہ ہر انسان جب کسی کو کوئی کام کرتے دیکھتا ہے تو معا اس کے متعلق ایک رائے لگا لیتا ہے خواہ کوئی چھوٹا بچہ ہو یا بڑا معتمر انسان ، زمیندار ہو یا تعلیم یافتہ ، جب بھی کسی کو کوئی کام کرتے دیکھتا ہے تو اس پر رائے لگا لیتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ہر ایک انسان میں جج بنے کی قابلیت رکھی ہے خواہ کوئی ادنی ہو یا اعلیٰ پڑھا لکھا ہو یا آن پڑھ، اس کے اندر یہ قابلیت ہوتی ہے کہ وہ جھی کرتا ہے۔کبھی کسی کو نیک قرار دیتا ہے کسی کو بد، کسی کو شرارتی بناتا ہے، کسی کو بھلا مانس۔یہ ممکن ہی نہیں کہ انسانی آنکھوں کے سامنے سے کوئی چیز گزرے یا کسی اور حسن کے ذریعہ سے کسی امر کا علم ہو اور اس کے متعلق انسان کوئی فیصلہ نہ کرے۔پس ہر انسان حج ہے مگر یہ انسانی حالت مخفی ہے کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ دوسرا شخص اس پر حج بن رہا ہے جس طرح خدا کی رب العلمین والی صفت مخفی تھی اسی طرح بندہ کی مالکیت یوم الدین والی صفت مخفی ہوتی ہے۔