ہستی باری تعالیٰ — Page 241
۲۴۱ رؤیت الہی کا تیسرا فائدہ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ خدا کی تحیلی خارق عادت چیز ہوتی ہے۔ہوتی تو ایسی ہے کہ بندہ دیکھ سکے مگر اس کے ساتھ ایسی تاثیر ہوتی ہے کہ وہ قلوب کو منور اور روشن کر دیتی ہے اور گویا مخفی اثرات کے ذریعہ سے قلوب کو صاف کر دیتی ہے۔پس رویت حقیقی کے بعد انسان اپنے اخلاق اور اپنی روحانیت کے اندر ایک نہایت ہی عظیم الشان تغیر پاتا ہے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف جذب ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے جیسا کہ انبیاء واولیاء کا حال ہے۔یہ نتائج صرف رؤیت سے ہی پیدا ہو سکتے ہیں۔ہم خدا سے کس حد تک تعلق پیدا کر سکتے ہیں؟ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے ہم کس حد تک تعلق پیدا کر سکتے ہیں؟ یہ سوال گوجستی باری تعالیٰ کی تحقیق کی ابتداء میں بھی پیدا ہوتا ہے مگر اس وقت اس کا باعث علمی تحقیق کا خیال ہوتا ہے مگر مذکورہ بالا تحقیق کے بعد دوبارہ یہی سوال انسان کے دل میں اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ اب وہ عمل کے ساتھ خدا تک پہنچنا چاہتا ہے۔اس مقام پر پہنچ کر گویا انسان کی ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ جیسے کسی کے سامنے زمین و آسمان کے خزانے کھول کر رکھ دیئے جائیں اور وہ پوچھے کہ ان سے کیا فائدہ حاصل کروں اور کہاں اور کس طرح خرچ کروں۔پس اب ہم یہ بات حل کرتے ہیں کہ خدا کی صفات کے غیر محدود خزانوں سے ہم کیا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور کس طرح فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟ اور ان کے ذریعہ سے اپنی روحانی حالت کو کس حد تک درست کر سکتے ہیں؟