ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 240

۲۴۰ پچیس لاکھ میل لمبا چوڑا ہے لیکن ہمیں وہ بہت چھوٹا نظر آتا ہے کیونکہ ہماری آنکھ اس قدر بڑے جسم کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی صرف ایک ٹکیا کے برابر نظر آتا ہے کیونکہ اس کے بعد کی وجہ سے اتنا ہی عکس ہماری آنکھ پر پڑتا ہے اور اس بات کو پرانے زمانے کے دیہاتی لوگ بھی جانتے تھے کہ سورج اس سے بڑا ہے جس قدر کہ ہمیں نظر آتا ہے۔چنانچہ ان میں ایک مثل تھی کہ " تارا کھاری چند گھماں۔سورج دا کچھ اوڑک ناں“ یعنی ستارے ایک بڑے ٹوکرے کے برابر ہوتے ہیں اور چاند دو سیکھے زمین کے برابر اور سورج اتنا بڑا ہے کہ اس کا اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔گو یہ اندازہ غلط ہے مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پرانے زمانہ کا زمیندار طبقہ بھی اس امر کو سمجھتا تھا کہ دور کی چیزیں اور بڑی چیزیں اپنے فوکس اور ہماری آنکھ کے اندازہ کے مطابق ہی نظر آتی ہیں مگر باوجود اس کے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سورج کا دیکھنا غیر حقیقی ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ، یہی حال رؤیت الہی کا ہے۔رؤیت الہی کا دوسرا فائده دوسرا فائدہ رؤیت الہی کا یہ ہوتا ہے کہ جو صفت سامنے آتی ہے اس سے قلب میں تغیر پیدا ہوتا ہے۔تعجب ہے خدا کے متعلق تو لوگ کہتے ہیں کہ اس کی رؤیت کا کیا فائدہ؟ لیکن اگر ان کا کوئی عزیز جدا ہونے لگے تو اس کی تصویر اتر وا لیتے ہیں یا اگر کوئی مرا ہوا بچہ یا رشتہ دار خواب میں نظر آئے تو بہت ہی خوش ہوتے اور اس نظارے سے متاثر بھی ہوتے ہیں۔اگر ان باتوں سے فائدہ ہوتا ہے تو خدا کی حقیقی جلوہ گری کیوں نہ فائدہ دے گی؟