ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 225

۲۲۵ ہے کہ حضرت موسی کو پہلے رؤیت ہوئی تھی۔چنانچہ آتا ہے وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى إِذْ را تارًا فَقَالَ لِأَهْلِهِ امْكُلُوا إِلى انَسْتُ نَارًا لَعَلَى اتِيْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى فَلَمَّا أَنهَا نُودِي يَمُوسَى إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طوّى وَأَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَى (طه: ۱۰ تا ۱۴) حضرت موسیٰ نبی ہونے سے قبل آرہے تھے کہ انہوں نے آگ کی روشنی دیکھی اور سمجھ گئے کہ یہ جلوہ الہی ہے کیونکہ اللہ تعالی کہتا ہے جب اس نے اس کو دیکھا تو اپنے اہل کو کہا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے یہ ایک کا لفظ بتا تا ہے کہ موسی جانتے تھے کہ یہ کشفی نظارہ ہے ورنہ وہ کہتے کہ وہ دیکھو آگ نظر آ رہی ہے اور جب کشفی نظارہ تھا تو اس سے مراد جلوہ الہی ہی ہوسکتا ہے اور آگے جو لفظ قبس وغیرہ کے استعمال کئے گئے ہیں وہ بھی حقیقی آگ پر دلالت نہیں کرتے کیونکہ جب کسی چیز کو کسی اور چیز سے تشبیہ دی جاتی ہے تو اس کی صفات کو بھی اس کی نسبت استعمال کیا جاتا ہے جیسے کہ کسی کو شیر کہیں تو یہ نہیں کہیں گے کہ وہ شیر کی طرح تقریر کرتا ہے بلکہ یہ کہ شیر کی طرح چنگھاڑتا ہے۔پس چونکہ جلوہ الہی کا نام آگ رکھا گیا تھا اس لئے آگے اس کے آثار وغیرہ کا نام بھی انگارہ رکھا گیا اور یہ جو حضرت موسیٰ نے کہا کہ میں لاتا ہوں یا ہدایت پا کر آتا ہوں تو اس کا مطلب یہ تھا کہ حضرت موسیٰ نے اس وقت تک یہ نہیں سمجھا تھا کہ یہ جلوہ بنوت ہے یا جلوہ ولایت اس لئے انہوں نے اپنے اہل سے کہا کہ اگر وہ ہدایت نبوت ہوئی اور حکم ہوا کہ دوسروں کو بھی تعلیم دو تو تمہارے لئے بھی لاؤں گا اور اگر ہدایت ولایت ہوئی جو اپنے لئے ہوتی ہے تو میں خود ہدایت پا جاؤں گا۔