ہستی باری تعالیٰ — Page 109
1+9 وہ خدا تعالیٰ کی جو عبادت بھی کرتا ہے وہ اس لئے کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے پیدا کیا اور اپنی صفت ربوبیت اور رحمانیت کے ماتحت اس پر احسان کئے۔گویا مؤمن کو آئندہ کی لالچ مد نظر نہیں ہوتی بلکہ پچھلے احسانوں اور انعاموں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا شکر یہ ادا کرنا مقصود ہوتا ہے۔نماز میں مؤمن کیا کہتا ہے؟ یہی ناں کہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّين ان آیات میں دیکھ لو کہ اکثر حصہ پچھلے انعامات کے شکریہ کے متعلق ہی ہے اور آئندہ کا ذکر صرف اختصار کے ساتھ آیا ہے۔پس مؤمن کی عبادات بطور شکر یہ ہوتی ہیں نہ بغرض لانچ۔اور شکر گزاری کو دنیا کی کوئی قوم بھی برا نہیں کہتی بلکہ سب ہی اسے مستحسن فعل سمجھتے ہیں۔باقی رہا یہ سوال کہ مذاہب میں نیک کاموں کے بدلہ میں ثواب کا وعدہ دیا جاتا ہے سواس کا جواب یہ ہے کہ خدا کا معاملہ اس کے اختیار میں ہے۔اس کے بدلہ دینے کے یہ معنی نہیں کہ مؤمن اس بدلہ کے لئے یہ کام کرتا ہے ایک دوست دوسرے دوست کو ملنے جاتا ہے تو وہ اس کی خاطر کرتا ہے اور سب ہی جانتے ہیں کہ جب دوست دوست کے پاس جائے گا تو اس کی خاطر بھی ہو گی مگر کوئی نہیں کہتا کہ دوست اس لئے دوست سے ملنے گیا تھا کہ تا اسے اچھے اچھے کھانے کھلائے جائیں۔اس کا جانا محبت کی وجہ سے تھا اور دوسرے کا اس کی خاطر کرنا بھی اپنی محبت کے تقاضے سے تھا۔مکمل نیکی خدا کو ماننے والا ہی کر سکتا ہے چوتھا جواب یہ ہے کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو نیکی کے جس درجہ تک خدا کو مانے والا پہنچ سکتا ہے دوسرا انسان پہنچ ہی نہیں سکتا نہ دوسرا کوئی شخص ان تمام اقسام کی الفاتحة ۲ تا ۴