ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 290

ہستی باری تعالیٰ — Page 108

۱۰۸ نیکی بدی کے متعلق مؤمن کا معتام دوسرا اور حقیقی جواب دہریوں کے اعتراض کا یہ ہے کہ تم نے مؤمن کے کاموں کا جو مقصد قرار دیا ہے وہ فرضی ہے۔پہلے تم نے فرضی طور پر ایک بات بنائی ہے اور پھر اسے مؤمن کی طرف منسوب کر دیا ہے۔یہ کس وجہ سے فرض کر لیا گیا ہے کہ ایک خدا کو ماننے والا دل سے تو یہ چاہتا ہے کہ بدی کرے مگر خدا کے خوف سے بدی نہیں کرتا یا یہ کہ وہ دل سے تو چاہتا ہے کہ نیکی کے کام نہ کرے مگر لالچ کی وجہ سے نیک کام کرتا ہے۔ایک بچے مؤمن پر یہ انتہام ہے۔وہ اس مقام سے بہت بالا ہوتا ہے وہ اس لئے نیکی نہیں کرتا یا بدی سے اجتناب نہیں کرتا کہ خدا دیکھتا ہے اس سے انعام ملے گا یا وہ سزا دیگا بلکہ اس لئے نیکی کرتا اور بدی سے بچتا ہے کہ خدا تعالیٰ اسے یونہی کہتا ہے۔پس چونکہ وہ خدا تعالیٰ کا ماننے والا ہے وہ اس کے حکم کو بجالانا اپنا فرض منصبی سمجھتا ہے قطع نظر اس کے کہ کسی جزاء کی اُمید یا سزا کا خوف اس کے دل میں ہو۔تیسرا جواب یہ ہے کہ نیکی کرنے پر ثواب کو اور بدی کرنے پر عتاب کو مد نظر رکھنا تو ہمارے مذہب میں نہایت ہی ادنی بات سمجھی جاتی ہے۔اگر کوئی مؤمن یہ کہے کہ میں نمازیں اس لئے پڑھتا ہوں کہ ان کے بدلے میں جنت ملے گی تو یہ تو ایک قسم کا شرک ہو جائے گا اور اسلام کی روح کے خلاف ہوگا۔مؤمن تو اس لئے نیکی کرتا اور بدی سے بچتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ نیکی اپنی ذات میں حسن رکھتی ہے اور بدی عیب۔اور عبادات کی قسم کی نیکیاں وہ اس لئے کرتا ہے کہ اس پر خدا تعالیٰ کے بہت سے احسانات ہیں۔وہ نماز اس لئے نہیں پڑھتا کہ جنت ملے گی یا روزہ اس لئے نہیں رکھتا کہ دوزخ کا اسے ڈر ہوتا ہے بلکہ