ہستی باری تعالیٰ — Page 100
غرض منکرین یہ کہتے ہیں کہ اگر خدا ہے تو اس کے علم کی ، قدرت کی اور خلق کی تازہ بتازہ مثالیں جس قسم کی ہم کہتے ہیں دکھا دو۔جوا اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک سوال کی دو غرضیں ہوتی ہیں۔سوال یا تو اپنے علم کی زیادتی کیلئے کیا جاتا ہے یا دوسرے کے علم کا امتحان لینے کے لئے اور اس کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ جس سے سوال کیا جائے اس کی جو حیثیت ہو اسی کے مطابق سوال کیا جائے مثلاً اگر ایک سپاہی کو ایک لففینٹ ملے اور وہ سپاہی اس سے کچھ دریافت کرنا چاہے تو وہ اس طرح نہیں کرے گا کہ اسے کان سے پکڑ کر کہے کہ بتاؤ فلاں بات کس طرح ہے؟ بلکہ سارے آداب کو مد نظر رکھ کر اس سے بات کرے گا۔غرض جو اپنے سے بالا ہو اس سے سوال کرنے کے اور آداب ہوتے ہیں اور جو متر ہو اس کے آداب اور ہوتے ہیں اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے وجود کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں وہ اسے ایک طالب علم یا امیدوار ملازمت کی حیثیت میں نہیں پیش کرتے کہ ممتحن یا ملازم رکھنے والے اپنی مرضی کے مطابق جس طرح چاہیں اور جو چاہیں اس سے پوچھیں۔وہ بادشاہ ہے سب بادشاہوں کا مالک ہے آتا ہے حاکم ہے خالق ہے محسن ہے ہمارا ذرہ ذرہ اس کی پیدائش ہے۔اگر ایک شخص اس کی ذات عالی کے متعلق بطور فرض کے بھی سوال کرے تو اسے مد نظر رکھنا ہو گا کہ وہ کس ہستی سے متعلق سوال کر رہا ہے۔ذرا غور کرو کہ اگر کوئی کہے کہ میں سپر نٹنڈنٹ پولیس ہوں یا ڈ پٹی کمشنر ہوں تو کیا لوگ یہ کیا کرتے ہیں کہ اپنی مرضی کے سوالات بنا کر اس کے سامنے پیش کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کو حل کرو۔تب ہم تمہیں افسر پولیس یا ڈ پٹی کمشنر مانیں گے۔دُنیا میں کوئی شخص بھی حکام کی حقیقت معلوم