حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 95 of 148

حقیقتِ نماز — Page 95

حقیقت نماز ہزار ہا خشوع کی حالتیں ایسی ہیں کہ رحیم خدا سے تعلق نہیں پکڑتیں اور ضائع ہو جاتی ہیں۔ہزار ہا جاہل اپنے چند روزہ خشوع اور وجد اور گریہ وزاری پر خوش ہو کر خیال کرتے ہیں کہ ہم ولی ہو گئے ،غوث ہو گئے ، قطب ہو گئے اور ابدال میں داخل ہو گئے اور خدا رسیدہ ہو گئے حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں ہنوز ایک نطفہ ہے۔ابھی تو نام خدا ہے غنچہ صبا تو چھو بھی نہیں گئی ہے۔افسوس کہ انہیں خام خیالیوں سے ایک دنیا بلاک گئی۔اور یادر ہے کہ یہ روحانی حالت کا پہلا مرتبہ جو حالت خشوع ہے طرح طرح کے اسباب سے ضائع ہوسکتا ہے جیسا کہ نطفہ جو جسمانی حالت کا پہلا مرتبہ ہے انواع اقسام کے حوادث سے تلف ہوسکتا ہے۔منجملہ ان کے ذاتی نقص بھی ہے۔مثلاً اس خشوع میں کوئی مشرکانہ ملونی ہے یا کسی بدعت کی آمیزش ہے یا اور لغویات کا ساتھ اشتراک ہے۔مثلا نفسانی خواہشیں اور نفسانی ناپاک جذبات بجائے خود زور مار رہے ہیں یا سفلی تعلقات نے دل کو پکڑ رکھا ہے یا جیفہ دنیا کی لغو خواہشوں نے زیر کر دیا ہے۔پس ان تمام نا پاک عوارض کے ساتھ حالت خشوع اس لائق نہیں ٹھہرتی کہ رحیم خدا اُس سے تعلق پکڑ جائے جیسا کہ اُس نطفہ سے رحم تعلق نہیں پکڑ سکتا جو اپنے اندر کسی قسم کا نقص رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہندو جوگیوں کی حالت خشوع اور عیسائی پادریوں کی حالت انکسار ان کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اور گو وہ سوز و گداز میں اس قدر ترقی کریں کہ اپنے جسم کو بھی ساتھ ہی استخوان بے پوست کر دیں تب بھی رحیم خدا اُن سے تعلق نہیں کرتا کیونکہ اُن کی حالت خشوع میں ایک ذاتی نقص ہے اور ایسا ہی وہ بدعتی فقیر اسلام کے جو قرآن شریف کی پیروی چھوڑ کر ہزاروں بدعات میں مبتلا ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ بھنگ چرس اور شراب پینے سے بھی شرم نہیں کرتے اور دوسرے فسق و فجور بھی 95