حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 94 of 148

حقیقتِ نماز — Page 94

حقیقت نماز رحیم ہے کوئی تعلق پیدا نہیں ہوتا اور نہ اس کی خاص تجلی کے جذبہ سے اس کی طرف کھینچے جاتے ہیں اِس لئے اُن کا وہ تمام سوز و گداز اور تمام وہ حالت خشوع بے بنیاد ہوتی ہے اور بسا اوقات اُن کا قدم پھسل جاتا ہے یہاں تک کہ پہلی حالت سے بھی بدتر حالت میں جا پڑتے ہیں۔پس یہ عجیب دلچسپ مطابقت ہے کہ جیسا کہ نطفہ جسمانی وجود کا اول مرتبہ ہے اور جب تک رحم کی کشش اُس کی دستگیری نہ کرے وہ کچھ چیز ہی نہیں ایسا ہی حالت خشوع روحانی وجود کا اول مرتبہ ہے اور جب تک رحیم خدا کی کشش اسکی دستگیری نہ کرے وہ حالت خشوع کچھ بھی چیز نہیں۔اسی لئے ہزار ہا ایسے لوگوں کو پاؤ گے کہ اپنی عمر کے کسی حصہ میں یاد الہی اور نماز میں حالت خشوع سے لذت اٹھاتے اور وجد کرتے اور روتے تھے اور پھر کسی ایسی لعنت نے اُن کو پکڑ لیا کہ یک مرتبہ نفسانی امور کی طرف گر گئے اور دنیا اور دنیا کی خواہشوں کے جذبات سے وہ تمام حالت کھو بیٹھے۔یہ نہایت خوف کا مقام ہے کہ اکثر وہ حالت خشوع رحیمیت کے تعلق سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے اور قبل اس کے کہ رحیم خدا کی کشش اس میں کچھ کام کرے وہ حالت بر باد اور نابود ہو جاتی ہے اور ایسی صورت میں وہ حالت جو روحانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے اُس نطفہ سے مشابہت رکھتی ہے کہ جو رحم سے تعلق پکڑنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔غرض روحانی وجود کا پہلا مرتبہ جو حالت خشوع ہے اور جسمانی وجود کا پہلا مرتبہ جو نطفہ ہے باہم اس بات میں تشابہ رکھتے ہیں کہ جسمانی وجود کا پہلا مرتبہ یعنی نطفہ بغیر کشش رحم کے پیچ ہے اور روحانی وجود کا پہلا مرتبہ یعنی حالت خشوع بغیر جذب رحیم کے بیچ اور جیسا کہ دنیا میں ہزا با نطفے تباہ ہوتے ہیں اور نطفہ ہونے کی حالت میں ہی ضائع ہو جاتے ہیں اور رحم سے تعلق نہیں پکڑتے ، ایسا ہی دنیا میں 94