حقیقتِ نماز — Page 92
حقیقت نماز میٹر آتی ہے۔یعنی گدازش اور رقت اور فروتنی اور عجز و نیاز اور روح کا انکسار اور ایک تڑپ اور قلق اور تپش اپنے اندر پیدا کرنا۔اور ایک خوف کی حالت اپنے پر وارد کر کے خدائے عز وجل کی طرف دل کو جھکانا جیسا کہ اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے قد أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُونَ۔یعنی وہ مومن مراد پاگئے جو اپنی نماز میں اور ہر ایک طور کی یاد الہی میں فروتنی اور عجز ونیا ز اختیار کرتے ہیں اور رقت اور سوز و گداز اور قلق اور کرب اور دلی جوش سے اپنے رب کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں۔یہ خشوع کی حالت جس کی تعریف کا اوپر اشارہ کیا گیا ہے روحانی وجود کی طیاری کیلئے پہلا مرتبہ ہے یا یوں کہو کہ وہ پہلا تخم ہے جو عبودیت کی زمین میں بویا جاتا ہے اور وہ اجمالی طور پر ان تمام قومی اور صفات اور اعضاء اور تمام نقش و نگار اور حسن و جمال اور خط و خال اور شمائل روحانیہ پر مشتمل ہے جو پانچویں اور چھٹے درجہ میں انسان کامل کے لئے نمودار طور پر ظاہر ہوتے اور اپنے دلکش پیرایہ میں تجلی فرماتے ہیں۔( حاشیہ : پانچواں درجہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں وہ ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔یعنی وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَنتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رُعُونَ۔اور چھٹا درجہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں وہ ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے یعنی وَالَّذِيْنِ هُمْ عَلَى صَلَوَتِهِمْ يُحَافِظُونَ۔اور یہ پانچواں درجہ جسمانی درجات کے پنجم درجہ کے مقابل پر ہوتا ہے جس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے یعنی فَكَسَوْنَا الْعِظمَ لَحْمًا۔اور چھٹا درجہ جسمانی درجات کے ششم درجہ کے مقابل پر پڑا ہے جس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے ثُمَّ انْشَأْنُهُ خَلْقًا آخَرَ ) اور چونکہ وہ نطفہ کی طرح روحانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے۔اِس لئے وہ آیت قرآنی میں نطفہ کی طرح پہلے مرتبہ پر رکھا 92