حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 91 of 148

حقیقتِ نماز — Page 91

حقیقت نماز جب قدرت صانع مطلق سے انسانی قالب تمام و کمال رحم میں تیار ہو جاتا ہے اور ہڈیوں پر ایک خوشنما گوشت چڑھ جاتا ہے اور چھٹا درجہ وہ ہے جب اُس قالب میں جان پڑ جاتی ہے۔اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے انسان کے روحانی وجود کا پہلا مرتبہ حالت خشوع اور عجز و نیاز اور سوز و گداز ہے اور درحقیقت وہ بھی اجمالی طور پر مجموعہ ان تمام امور کا ہے جو بعد میں کھلے طور پر انسان کے روحانی وجود میں نمایاں ہوتے ہیں۔) اور باایں ہمہ نطفہ باقی تمام درجات سے زیادہ تر معرض خطر میں ہے کیونکہ ابھی وہ اس تخم کی طرح ہے جس نے ہنوز زمین سے کوئی تعلق نہیں پکڑا اور ابھی وہ رحم کی کشش سے بہرہ ور نہیں ہوا۔۔۔جیسا کہ تخم بعض اوقات پتھریلی زمین پر پڑ کر ضائع ہو جاتا ہے۔اور ممکن ہے کہ وہ نطفہ بذاتہا ناقص ہو یعنی اپنے اندر ہی کچھ نقص رکھتا ہو اور قابل نشو ونما نہ ہو اور یہ استعداد اس میں نہ ہو کہ رحم اُس کو اپنی طرف جذب کرلے اور صرف ایک مردہ کی طرح ہوجس میں کچھ حرکت نہ ہو۔جیسا کہ ایک بوسیدہ خم زمین میں بویا جائے اور گوز میں عمدہ ہومگر تا ہم تم بوجہ اپنے ذاتی نقص کے قابل نشوونما نہیں ہوتا اور ممکن ہے کہ بعض اور عوارض کی وجہ سے جن کی تفصیل کی ضرورت نہیں نطفہ رحم میں تعلق پذیر نہ ہو سکے اور رحم اس کو اپنی کشش سے محروم رکھے۔جیسا که تخم بعض اوقات پیروں کے نیچے کچلا جاتا ہے یا پرندے اُس کو چُگ جاتے ہیں یا کسی اور حادثہ سے تلف ہو جاتا ہے۔یہی صفات مومن کے روحانی وجود کے اوّل مرتبہ کے ہیں اور اوّل مرتبہ مومن کے روحانی وجود کا وہ خشوع اور رقت اور سوز و گداز کی حالت ہے جو نما ز اور یاد الہی میں مومن کو 91