حقیقتِ نماز — Page 88
حقیقت نماز ہر ایک آدمی کے ساتھ ایک تمنا ہوتی ہے لیکن کوئی شخص مومن نہیں بن سکتا جب تک کہ ساری تمناؤں پر اللہ تعالیٰ کی عظمت کو مقدم نہ کرلے۔ولی قریبی اور دوست کو کہتے ہیں۔جو دوست چاہتا ہے، وہی یہ چاہتا ہے۔تب یہ ولی کہلاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذريات ۵۷)۔انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے جوش رکھے۔تب وہ اپنے ابنائے جنس سے بڑھ جائے گا اور خدا تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے بن جائے گا۔مُردوں میں سے نہیں ہونا چاہئے کہ مردہ کے منہ میں ایک شئے ایک طرف سے ڈالی جاتی ہے تو دوسری طرف سے نکل آتی ہے۔اسی طرح شقاوت کی حالت میں کوئی اچھی چیز اندر نہیں جاسکتی۔یاد رکھو کہ کوئی عبادت اور صدقہ قبول نہیں ہوتا جبتک کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ذاتی جوش نہ ہو۔جس کے ساتھ کوئی ملونی ذاتی فوائد اور منافع کی نہ ہو اور ایسا جوش ہو کہ خود بھی نہ جان سکے کہ یہ جوش مجھ میں کیوں ہے۔بہت ضرورت ہے کہ ایسے لوگ بکثرت پیدا ہوں، مگر سوائے اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے کچھ نہیں ہوسکتا۔“ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 263-262 مطبوعہ 2010ء) فرمایا : روزہ اور نماز ہر دو عبادتیں ہیں۔روزے کا زور جسم پر ہے اور نماز کا زور روح پر ہے۔نماز سے ایک سوز و گداز پیدا ہوتا ہے۔اس واسطے وہ افضل ہے۔روزے سے کشوف پیدا ہوتے ہیں مگر یہ کیفیت بعض دفعہ جوگیوں میں بھی پیدا ہوسکتی ہے لیکن روحانی گدازش جو دعاؤں سے پیدا ہوتی ہے اس میں کوئی شامل نہیں۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 293-292 مطبوعہ 2010ء) 88