حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 87 of 148

حقیقتِ نماز — Page 87

حقیقت نماز اللہ تعالیٰ کے نزدیک ولی اللہ اور صاحب برکات وہی شخص ہے جس کو یہ جوش حاصل ہو جائے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اُس کا جلال ظاہر ہو۔نماز میں جو سُبحَانَ رَبِّي الْعَظِيمِ اور سُبْحَانَ رَبِّي الأغلى کہا جاتا ہے۔وہ بھی خدا تعالیٰ کے جلال کے ظاہر ہونے کی تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایسی عظمت ہو جس کی نظیر نہ ہو۔نماز میں تسبیح و تقدیس کرتے ہوئے یہی حالت ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالی نے ترغیب دی ہے کہ طبعاً جوش کے ساتھ اپنے کاموں سے اور اپنی کوششوں سے دکھا دے کہ اُس کی عظمت کے برخلاف کوئی شے مجھ پر غالب نہیں آسکتی۔یہ بڑی عبادت ہے۔جولوگ اس کی مرضی کے مطابق جوش رکھتے ہیں۔وہی مؤید کہلاتے ہیں اور وہی برکتیں پاتے ہیں۔جولوگ خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال اور تقدیس کے لئے جوش نہیں رکھتے اُن کی نمازیں جھوٹی ہیں اور ان کے سجدے بیکار ہیں۔جب تک خدا تعالیٰ کے لیے جوش نہ ہو یہ سجدے صرف منتر جنتر ٹھہریں گے جن کے ذریعہ سے یہ بہشت کو لینا چاہتا ہے۔یادرکھو کوئی جسمانی بات جس کے ساتھ کیفیت نہ ہو، فائدہ مند نہیں ہو سکتی۔جیسا کہ اللہ تعالی کو قربانی کے گوشت نہیں پہنچتے ایسا ہی تمہارے رکوع اور سجود بھی نہیں پہنچتے ، جب تک اُن کے ساتھ کیفیت نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کیفیت کو چاہتا ہے اور اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس کی عزت اور عظمت کے لئے جوش رکھتے ہیں۔جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ ایک بار یک راہ سے گزرتے ہیں اور کوئی دوسر اشخص ان کے ساتھ نہیں جاسکتا۔جب تک کیفیت نہ ہو انسان ترقی نہیں کرسکتا۔گویا خدا تعالیٰ نے قسم کھائی ہے کہ جب تک اس کے لئے جوش نہ ہو کوئی لذت نہیں دے گا۔87