حقیقتِ نماز — Page 8
حقیقت نماز باقاعدگی سے پنجوقتہ نمازیں ادا کرتے ہیں اور ان کی پیشانیوں پر سجدوں کے نشانات بھی دکھائی دیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق مخلوق خدا کے حقوق کی ادائیگی کے حوالے سے اُن کے اخلاق کی حالت بہت ہی نا گفتہ بہ ہوتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس اختلاف اور تفاوت کی کیا وجہ ہے؟ نماز کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان اور آنحضرت علی کے ارشادات میں تو کسی قسم کا کوئی شک نہیں۔وہ تو اسی طرح ہی سچ ہیں جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔اس سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ ایسے لوگ نماز کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور وہ محض رسم اور عادت کے طور پر نمازیں پڑھتے ہیں نہ کہ روح اور راستی کے ساتھ اور یہی وجہ ہے کہ اُن کی ایسی نمازیں نہ تو اُن سے بدیاں دور کرنے کا باعث ہوتی ہیں اور نہ ہی اُن کے اخلاق بہتر ہوتے ہیں۔امام الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز کی حقیقت کے بارے میں اپنے فرمودات اور تحریرات میں بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور اس حوالے سے ایسے رازوں سے پردہ اٹھایا ہے جن سے کہ مسلمانوں کی اکثریت ناواقف محض ہے۔آپ نے نہایت وضاحت سے بتایا ہے کہ وہ کونسی نماز ہے جو انسان کو برائیوں اور سیات سے بچاتی ہے اور وہ کیسے ادا کی جاتی ہے۔آپ نے اوقات نماز اور ارکانِ نماز کی حکمت بھی بیان فرمائی ہے اور اقام الصلوۃ کے حقیقی مفہوم نماز کے مغز، رُوح اور کیفیت کے حصول کی طرف بھی راہنمائی کی ہے۔آپ نے نماز کو عبادت کے علاوہ بہترین دعا بھی قرار دیا ہے جس میں ایک مخصوص طریق سے اپنے خالق و مالک کی تسبیح وتحمید بیان کرنے کے بعد نہایت درجہ عاجزی، انکساری، رقت اور اضطراب کے ساتھ انسان اپنی مناجات پیش کرتا ہے۔آپ نے نماز میں حالت خشوع اور لذت کا ایسا روح پرور اور دلکش فلسفہ پیش کیا ہے کہ اسے پڑھ کر 00 8