حقیقتِ نماز — Page 7
عرض حال حقیقت نماز اسلامی عبادات میں نماز کو خصوصی حیثیت حاصل ہے۔اس کی یہاں تک اہمیت ہے کہ اسے دین کا ستون قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ آنحضرت علی نے فرمایا : الصلوةُ عماد الدین یعنی نماز دین کا ستون ہے۔اسی طرح ایک حدیث مبارکہ میں نماز کو مومن کی معراج کہا گیا ہے۔ارکانِ اسلام میں سے روزہ ، زکوۃ اور حج تو ایک مسلمان کے حالات سے مشروط ہیں اور یہ سب پر یکساں فرض نہیں لیکن نما ز ہر بالغ اور عاقل مسلمان پر دن میں پانچ دفعہ ادا کرنی فرض ہے۔قرآن شریف میں ارکانِ اسلام میں سے سب سے زیادہ قیام نماز کے التزام کی تاکید پائی جاتی ہے۔ایک طرف تو نماز حقوق اللہ کے حوالے سے اہم عبادت ہونے کی وجہ سے قرب الہی کا بہترین ذریعہ ہے جبکہ دوسری طرف معاشرتی زندگی میں حقوق العباد کے حوالے سے قرآنی اصول اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السيّاتِ (ہود ۱۱۵) یعنی یقینا نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں، کے تحت انسان کے اندر سے فحشاء اور منکرات کو دور کر کے نیکیوں میں ترقی کرنے کا باعث ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرُ۔(العنکبوت ۴۶) یعنی نماز بے حیائی اور ہر نا پسندیدہ بات سے روکتی ہے۔اب ظاہر ہے کہ جب انسان برائیوں سے رکے گا اور نیکیوں میں ترقی کرے گا تو اس سے وہ لوگوں کے حقوق ادا کرنے والا قرار پائے گا۔نماز کے بارے میں ان حقائق ، اہمیت اور فوائد کے تناظر میں جب ہم اسلامی دنیا میں نیکی اور اخلاقی اقدار کے معیار کو بادی النظر سے بھی دیکھیں تو اس پہلو سے گراوٹ اور پستی کی ایک افسوسناک اور دل ہلا دینے والی صورتِ حال سامنے آتی ہے۔بہت سے لوگ 7