حقیقتِ نماز — Page 60
حقیقت نماز۔۔۔میں تو یہاں تک بھی کہتا ہوں کہ اس بات سے مت رکو کہ نماز میں اپنی زبان میں دعائیں کرو۔بیشک اُردو میں، پنجابی میں، انگریزی میں، جو جس کی زبان ہو اسی میں دعا کرلے۔مگر ہاں یہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو اسی طرح پڑھو۔اس میں اپنی طرف سے کچھ دخل مت دو۔اِس کو اسی طرح پڑھو اور معنے سمجھنے کی کوشش کرو۔اسی طرح ماثورہ دعاؤں کا بھی اسی زبان میں التزام رکھو۔قرآن اور ماثورہ دعاؤں کے بعد جو چاہو خدا تعالیٰ سے مانگو اور جس زبان میں چاہو مانگو۔وہ سب زبانیں جانتا ہے، سنتا ہے قبول کرتا ہے۔اگر تم اپنی نماز کو با حلاوت اور پُر ذوق بنانا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ اپنی زبان میں کچھ نہ کچھ دعائیں کرو مگر اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ نمازیں تو ٹکریں مار کر پوری کر لی جاتی ہیں پھر لگتے ہیں دعائیں کرنے۔نماز تو ایک ناحق کا ٹیکس ہوتا ہے۔اگر کچھ اخلاص ہوتا ہے تو نماز کے بعد میں ہوتا ہے۔یہ نہیں سمجھتے کہ نماز خود دعا کا نام ہے جو بڑے عجز، انکسار، خلوص اور اضطراب سے مانگی جاتی ہے۔بڑے بڑے عظیم الشان کاموں کی کنجی صرف دعاہی ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھولنے کا پہلا مرحلہ دعا ہی ہے۔“ نے فرمایا۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 661-660 مطبوعہ 2010ء) سوال ہوا کہ آیا نماز میں اپنی زبان میں دعامانگنا جائز ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام ”سب زبانیں خدا نے بنائی ہیں۔چاہئے کہ اپنی زبان میں جس کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے نماز کے اندر دعائیں مانگے کیونکہ اس کا اثر دل پر پڑتا ہے تا کہ عاجزی اور خشوع پیدا ہو۔60