حقیقتِ نماز — Page 56
حقیقت نماز کا نام صلوۃ نہیں لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کو مدنظر رکھتا ہے اور ادب انکسار تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے تب وہ صلوۃ میں ہوتا ہے۔اصل حقیقت دعا کی وہ ہے جس کے ذریعہ سے خدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے اور انسان کو نا معقول باتوں سے ہٹاتی ہے۔اصل بات یہی ہے کہ انسان رضائے الہی کو حاصل کرے۔اس کے بعد روا ہے کہ انسان اپنی دنیوی ضروریات کے واسطے بھی دعا کرے۔یہ اس واسطے روا رکھا گیا ہے کہ دنیوی مشکلات بعض دفعہ دینی معاملات میں حارج ہو جاتے ہیں۔خاص کر خامی اور کج پنے کے زمانہ میں یہ امور ٹھوکر کا موجب بن جاتے ہیں۔صلوٰۃ کا لفظ پُر سوز معنے پر دلالت کرتا ہے جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے۔ویسی ہی گدازش دعا میں پیدا ہونی چاہیے۔جب ایسی حالت کو پہنچ جائے جیسے موت کی حالت ہوتی ہے تب اس کا نام صلوۃ ہوتا ہے۔“ قبولیت دعا کے اوقات ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 284-283 مطبوعہ 2010ء) شیخ رحمت اللہ صاحب کو فرمایا کہ: ہم آپ کے واسطے دعا کرتے ہیں آپ بھی اس وقت دعا کیا کریں۔ایک تو رات کے تین بجے تہجد کے واسطے خوب وقت ہوتا ہے۔کوئی کیسا ہی ہو تین بجے اُٹھنے میں اس کے لیے حرج نہیں اور دوسرا جب اچھی طرح سورج چمک اُٹھے تو اس وقت ہم 56