حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 55 of 148

حقیقتِ نماز — Page 55

حقیقت نماز کرے۔قبولیت دعا کے لیے ضروری ہے کہ نافرمانی سے باز رہے اور دعا بڑے زور سے کرے، کیونکہ پتھر پر پتھر زور سے پڑتا ہے تب آگ پیدا ہوتی ہے۔“ ،، ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 54 مطبوعہ 2010ء) استغفار کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ موجودہ نور جو خدا تعالیٰ سے حاصل ہوا ہے وہ محفوظ رہے اور زیادہ اور ملے۔اسی کی تحصیل کے لیے پنجگانہ نماز بھی ہے تا کہ ہر روز دل کھول کھول کر اس روشنی کو خدا تعالیٰ سے مانگ لیوے۔جسے بصیرت ہے وہ جانتا ہے کہ نماز ایک معراج ہے اور وہ نماز ہی کی تفرع اور ابتہال سے بھری ہوئی دعا ہے جس سے یہ امراض سے رہائی پاسکتا ہے۔وہ لوگ بہت بیوقوف ہیں جو ڈوری ڈالنے والی تاریکی کا علاج نہیں کرتے۔“ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 97 مطبوعہ 2010ء) عمار اصل میں ایک دعا ہے جو سکھائے ہوئے طریقہ سے مانگی جاتی ہے۔یعنی کبھی کھڑے ہونا پڑتا ہے، کبھی جھکنا اور کبھی سجدہ کرنا پڑتا ہے اور جو اصلیت کو نہیں سمجھتاوہ " پوست پر ہاتھ مارتا ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 335 مطبوعہ 2010ء) صلوۃ اور دعا میں فرق فرمایا: ”ایک مرتبہ میں نے خیال کیا کہ صلوۃ میں اور دعا میں کیا فرق ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ الصلوةُ هِيَ الدُّعَاءُ الصَّلَوةُ مُخُ الْعِبَادَةِ یعنی نماز ہی دعا ہے۔نماز عبادت کا مغز ہے۔جب انسان کی دعا محض دنیوی امور کے لیے ہو تو اس 55