حقیقتِ نماز — Page 51
حقیقت نماز نماز انسان کا تعویذ ہے۔پانچ وقت دُعا کا موقعہ ملتا ہے۔کوئی دعا توسنی جائے گی۔اس لیے نماز کو بہت سنوار کر پڑھنا چاہیے اور مجھے یہی بہت عزیز ہے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 396 مطبوعہ 2010ء) ” نماز کیا چیز ہے۔نماز دراصل رب العزۃ سے دعا ہے جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اور نہ عافیت اور خوشی کا سامان مل سکتا ہے۔جب خدا تعالیٰ اس پر اپنا فضل کرے گا اس وقت اسے حقیقی سرور اور راحت ملے گی۔اس وقت سے اس کو نمازوں میں لذت اور ذوق آنے لگے گا۔جس طرح لذیذ غذاؤں کے کھانے سے مزا آتا ہے اسی طرح پھر گر یہ وبکا کی لذت آئے گی اور یہ حالت جو نماز کی ہے پیدا ہو جائے گی۔اس سے پہلے جیسے کڑوی دوا کو کھاتا ہے تا کہ صحت حاصل ہو اسی طرح بے ذوقی نماز کو پڑھنا اور دعائیں مانگنا ضروری ہیں۔اس بے ذوقی کی حالت میں یہ فرض کر کے کہ اس سے لذت اور ذوق پیدا ہو یہ دعا کرے۔کہ اے اللہ تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کیسا اندھا اور نابینا ہوں اور میں اس وقت بالکل مردہ حالت میں ہوں۔میں جانتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز آئے گی تو میں تیری طرف آجاؤں گا۔اس وقت مجھے کوئی روک نہ سکے گا لیکن میرا دل اندھا اور ناشناسا ہے۔تو ایسا شعلہ نور اس پر نازل کر کہ تیرا انس اور شوق اس میں پیدا ہو جائے۔تو ایسا فضل کر کہ میں نابینا نہ اٹھوں اور اندھوں میں نہ جاملوں۔جب اس قسم کی دعا مانگے گا اور اس پر دوام اختیار کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ ایک وقت اس پر ایسا آئیگا کہ اس بے ذوقی کی نماز میں ایک چیز آسمان سے اس پر گرے گی جو رقت پیدا کر دے گی۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحه 616-615 مطبوعہ 2010ء) " 51