حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 50 of 148

حقیقتِ نماز — Page 50

حقیقت نماز کرتے ہیں اور مایوس ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ جب تک دعا کے لوازم ساتھ نہ ہوں وہ دعا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔دعا کے لوازم میں سے یہ ہے کہ دل پگھل جاوے اور روح پانی کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرے اور ایک کرب اور اضطراب اس میں پیدا ہو اور ساتھ ہی انسان بے صبر اور جلد باز نہ ہو بلکہ صبر اور استقامت کے ساتھ دعا میں لگا ر ہے۔پھر توقع کی جاتی ہے کہ وہ دعا قبول ہوگی۔نماز بڑی اعلیٰ درجہ کی دعا ہے مگر افسوس لوگ اس کی قدر نہیں جانتے اور اس کی حقیقت صرف اتنی ہی سمجھتے ہیں کہ رسمی طور پر قیام رکوع سجود کر لیا اور چند فقرے طوطے کی طرح رٹ لئے خواہ اُسے سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ایک اور افسوسناک امر پیدا ہو گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلے ہی مسلمان نماز کی حقیقت سے ناواقف تھے اور اس پر توجہ نہیں کرتے تھے۔اس پر بہت سے فرقے ایسے پیدا ہو گئے جنہوں نے نماز کی پابندیوں کو اڑا کر اس کی جگہ چند وظیفے اور ورد قرار دے دئیے۔کوئی نوشاہی ہے۔کوئی چشتی ہے۔کوئی کچھ ہے کوئی کچھ۔یہ لوگ اندورنی طور پر اسلام اور احکام الہی پر حملہ کرتے ہیں اور شریعت کی پابندیوں کو توڑ کر ایک نئی شریعت قائم کرتے ہیں۔یقین یا درکھو کہ ہمیں اور ہر ایک طالب حق کو نماز ایسی نعمت کے ہوتے ہوئے کسی اور بدعت کی ضرورت نہیں ہے۔آنحضرت علایم جب کسی تکلیف یا ابتلاء کو دیکھتے تو فوراً نماز میں کھڑے ہو جاتے تھے اور ہمارا اپنا اور اُن راستبازوں کا جو پہلے ہو گزرے ہیں، ان سب کا تجربہ ہے کہ نماز سے بڑھ کر خدا کی طرف لے جانے والی کوئی چیز نہیں۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 94-93 مطبوعہ 2010ء) 50