حقیقتِ نماز — Page 39
حقیقت نماز خوف اور محبت دو ایسی چیزیں ہیں کہ بظاہر اُن کا جمع ہونا بھی محال نظر آتا ہے کہ ایک شخص جس سے خوف کرے اُس سے محبت کیونکر کر سکتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کا خوف اور محبت ایک الگ رنگ رکھتی ہے۔جس قدر انسان خدا کے خوف میں ترقی کرے گا اُسی قدر محبت زیادہ ہوتی جاوے گی اور جس قدر محبت الہی میں ترقی کرے گا اسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف غالب ہو کر بدیوں اور برائیوں سے نفرت دلا کر پاکیزگی کی طرف لے جائے گا۔پس اسلام نے ان دونوں حقوق کو پورا کرنے کے لئے ایک صورت نماز کی رکھی جس میں خدا کے خوف کا پہلو رکھا ہے اور محبت کی حالت کے اظہار کے لئے حج رکھا ہے۔خوف کے جس قدر ارکان ہیں وہ نماز کے ارکان سے بخوبی واضح ہیں کہ کس قدر تذلل او اقرار عبودیت اس میں موجود ہے۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 225-224 مطبوعہ 2010ء) اور 39