حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 35 of 148

حقیقتِ نماز — Page 35

حقیقت نماز ارکان نماز کی حکمت ”جب انسان قیام کرتا ہے تو وہ ایک ادب کا طریق اختیار کرتا ہے۔ایک غلام جب اپنے آقا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ دست بستہ کھڑا ہوتا ہے۔پھر رکوع بھی ادب ہے جو قیام سے بڑھ کر ہے اور سجدہ ادب کا انتہائی مقام ہے۔جب انسان اپنے آپ کوفنا کی حالت میں ڈال دیتا ہے اس وقت سجدہ میں گر پڑتا ہے۔افسوس اُن نادانوں اور دنیا پرستوں پر جو نماز کی ترمیم کرنا چاہتے ہیں اور رکوع سجود پر اعتراض کرتے ہیں۔یہ تو کمال درجہ کی خوبی کی باتیں ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان اس عالم سے حصہ نہ رکھتا ہو جہاں سے نماز آتی ہے۔( حاشیہ میں درج ہے : کتابت کی غلطی سے عبارت نامکمل رہ گئی ہے۔بدر میں یہ عبارت یوں درج ہے : جب تک کہ انسان اُس عالم میں سے حصہ نہ لے جس سے نماز اپنی حد تک پہنچتی ہے تب تک انسان کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔مگر جس شخص کا یقین خدا پر نہیں وہ نماز پر کس طرح یقین کر سکتا ہے۔)۔۔۔اور یہ جو پہلے میں نے بیان کیا ہے قیام رکوع اور سجود کے متعلق ، اس میں انسانی تضرع کی بیت کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔پہلے قیام کرتا ہے۔جب اس پر ترقی کرتا ہے تو پھر رکوع کرتا ہے اور جب بالکل فنا ہو جاتا ہے تو پھر سجدہ میں گر پڑتا ہے۔میں جو کچھ کہتا ہوں صرف تقلید اور رسم کے طور پر نہیں بلکہ اپنے تجربہ سے کہتا ہوں بلکہ ہر کوئی اس کو اس طرح پر پڑھ کر اور آزما کر دیکھ لے۔( حاشیہ میں درج ہے : وہ بڑا بد قسمت ہے جو اس نسخہ کو آزما کر نہیں دیکھتا اور اس سے فائدہ حاصل نہیں کرتا۔) اِس نسخہ کو ہمیشہ یادرکھو اور اس 35