حقیقتِ نماز — Page 138
حقیقت نماز گے۔جیسے بعض غیر مقلد ذرا اکبر ہوا یا کسی عدالت میں جانا ہوا، تو نماز جمع کر لیتے ہیں اور بلا مطر اور بلا عذر بھی نماز جمع کرنا جائز سمجھتے ہیں مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم کو اس جھگڑے کی ضرورت اور حاجت نہیں اور نہ ہم اس میں پڑنا چاہتے ہیں کیونکہ میں طبعاً اور فطرتاً اس کو پسند کرتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جائے اور نماز موثونہ کے مسئلہ کو بہت ہی عزیز رکھتا ہوں بلکہ سخت مطر میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جائے ، اگر چہ شیعوں نے اور غیر مقلدوں نے اس پر بڑے بڑے مباحثے کئے ہیں مگر ہم کو اُن سے کوئی غرض نہیں۔وہ صرف نفس کی کاہلی سے کام لیتے ہیں۔سہل حدیثوں کو اپنے مفید مطلب پا کر اُن سے کام لیتے ہیں اور مشکل کو موضوع اور مجروح ٹھہراتے ہیں۔ہمارا یہ مدعا نہیں، بلکہ ہمارا مسلک ہمیشہ حدیث کے متعلق یہی رہا ہے کہ جو قرآن اور سنت کے مخالف نہ ہو وہ اگر ضعیف بھی ہو، تب بھی اُس پر عمل کر لینا چاہئے۔اس وقت جو ہم نمازیں جمع کرتے ہیں، تو اصل بات یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی تفہیم، القا اور الہام کے بدوں نہیں کرتا۔بعض امور ایسے ہوتے ہیں کہ میں ظاہر نہیں کرتا مگر اکثر ظاہر ہوتے ہیں۔جہاں تک خدا تعالیٰ نے مجھ پر اس جمع صلواتین کے متعلق ظاہر کیا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے تُجمَعُ لَهُ الصَّلوةُ کی بھی ایک عظیم الشان پیشگوئی کی تھی جو اب پوری ہورہی ہے۔۔۔میں صاف صاف کہتا ہوں کہ میں جو کچھ کرتا ہوں خدا تعالیٰ کے القاء اور اشارہ سے کرتا ہوں۔یہ پیشگوئی جو اس حدیث تُجمَعُ لَهُ لصَّلوة میں کی گئی ہے۔یہ سیح موعود اور مہدی کی ایک علامت ہے یعنی وہ ایسی دینی خدمات اور کاموں میں مصروف ہوگا کہ اس کے لیے نماز جمع کی جاوے 138