حقیقتِ نماز — Page 133
حقیقت نماز کے زیر علاج ایک بیمار ہے۔ایک نسخہ وہ دس روز استعمال کرتا ہے۔پھر اس سے اس کو روز بروز نقصان ہو رہا ہے۔جب اتنے دنوں کے بعد فائدہ نہ ہو تو بیمار کو شک پڑ جاتا ہے کہ یہ نسخہ ضرور میرے مزاج کے موافق نہیں اور یہ بدلنا چاہیے۔بس رسم اور رسمی عبادت ٹھیک نہیں۔‘ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 175-174 مطبوعہ 2010ء) فرمایا : " ہر شخص اپنے دل میں جھانک کر دیکھے کہ دین و دنیا میں سے کس کا زیادہ غم اس کے دل پر غالب ہے اگر ہر وقت دل کا رخ دنیا کے امور کی طرف رہتا ہے تو اُسے بہت فکر کرنی چاہیے۔اس لیے کہ کلمات الہیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کی نماز بھی قبول نہیں ہوتی۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 304 مطبوعہ 2010ء) سویا درکھنا چاہیے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ نماز قبول ہوگئی ہے تو اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ نماز کے اثرات اور برکات نماز پڑھنے والے میں پیدا ہو گئے ہیں۔جب تک وہ برکات اور اثرات پیدا نہ ہوں اس وقت تک نری فکریں ہی ہیں۔اس نما زیا روزہ سے کیا فائدہ ہوگا جبکہ اسی مسجد میں نماز پڑھی اور وہیں کسی دوسرے کی شکایت اور گلا کر دیا۔یا رات کو چوری کر لی۔کسی کے مال یا امانت میں خیانت کر لی۔کسی کی شان پر جو خدا تعالیٰ نے اسے عطا کی ہے بخل یا حسد کی وجہ سے حملہ کر دیا۔کسی کی آبرو پر حملہ کر دیا۔غرض اس قسم کے عیبوں اور برائیوں میں اگر مبتلا کا مبتلا رہا توتم ہی بتاؤ۔اس نماز نے اس کو کیا فائدہ پہنچایا؟ 133