حقیقتِ نماز — Page 130
حقیقت نماز وفاداری اور صدق نہ ہو۔بے وفا آدمی کتے کی طرح ہے جو مردار دنیا پر گرے ہوئے ہوتے ہیں۔وہ بظاہر نیک بھی نظر آتے ہوں لیکن افعال ذمیمہ ان میں پائے جاتے ہیں اور پوشیدہ بدچلنیاں اُن میں پائی جاتی ہیں۔جو نمازیں ریا کاری سے بھری ہوئی ہوں ان نمازوں کو ہم کیا کریں اور ان سے کیا فائدہ؟ ( حاشیہ میں درج ہے : البدر میں ہے : ” اگر اُن کی آرزوئیں اور مراد میں پوری ہوتی رہیں تو وہ خدا کو مانتے رہیں گے اور اگر پوری نہ ہوں تو پھر اُس سے ناراض اور شکایت کا دفتر کھلا ہوا ہے۔تو جن کی یہ حالت ہے اور اُن میں صدق وصفا نہیں ہے خدا اُن کی نمازوں کو کیا کرے۔وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ہر گز نمازی نہیں ہیں اور اُن کی نمازیں سوائے اس کے کہ زمین پر ٹکریں ماریں اور کچھ حکم نہیں رکھتیں۔‘) ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 500-501 مطبوعہ 2010) دغا باز آدمی کی نماز قبول نہیں ہوتی۔وہ اُس کے منہ پر ماری جاتی ہے کیونکہ وہ در اصل نماز نہیں پڑھتا بلکہ خدا تعالیٰ کو رشوت دینا چاہتا ہے مگر خدا تعالیٰ کو اس سے نفرت ہوتی ہے کیونکہ وہ رشوت کو خود پسند نہیں کرتا۔نماز کوئی ایسی ویسی شئے نہیں ہے بلکہ یہ وہ شئے ہے جس میں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحہ (۶) جیسی دعا کی جاتی ہے۔اس دعا میں بتلایا گیا ہے کہ جولوگ بُرے کام کرتے ہیں ان پر دنیا میں خدا تعالی کا غضب آتا ہے۔الغرض اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا چاہیے۔جو کام ہوتا ہے اس کے ارادہ سے ہوتا ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 233-232 مطبوعہ 2003ء) مولانا محمد احسن صاحب نے فرمایا کہ وَلَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ وَأَنْتُم سكرى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ (النساء۴۰) سے ثابت ہے کہ انسان 130