حقیقتِ نماز

by Other Authors

Page 129 of 148

حقیقتِ نماز — Page 129

حقیقت نماز کے معنی لعنت کے بھی ہوتے ہیں۔پس چاہئے کہ ادائیگی نماز میں انسان سُست نہ ہو۔اور نہ غافل ہو ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 457 تا 458 مطبوعہ 2010ء) نماز کی ظاہری صورت پر اکتفا کرنا نادانی ہے۔اکثر لوگ رسمی نماز ادا کرتے ہیں اور بہت جلدی کرتے ہیں جیسے ایک ناواجب ٹیکس لگا ہوا ہے۔جلدی گلے سے اتر جائے۔بعض لوگ نماز تو جلدی پڑھ لیتے ہیں لیکن اس کے بعد دعا اس قدر لمبی مانگتے ہیں کہ نماز کے وقت سے دگنا تگنا وقت لے لیتے ہیں حالانکہ نماز تو خود دعا ہے۔جس کو یہ نصیب نہیں ہے کہ نماز میں دعا کرے اُس کی نماز ہی نہیں۔چاہئے کہ اپنی نماز کو دعا سے مثل کھانے اور سرد پانی کے لذیذ اور مزیدار کرلو۔ایسانہ ہو کہ اس پر ویل ہو۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 591 مطبوعہ 2010ء) یا درکھو اللہ تعالیٰ روح اور روحانیت پر نظر کرتا ہے۔وہ ظاہری اعمال پر نگاہ نہیں کرتا۔وہ اُن کی حقیقت اور اندرونی حالت کو دیکھتا ہے کہ ان کے اعمال کی تہہ میں خود غرضی اور نفسانیت ہے یا اللہ تعالیٰ کی سچی اطاعت اور اخلاص مگر انسان بعض وقت ظاہری اعمال کو دیکھ کر دھو کہ کھا جاتا ہے۔جس کے ہاتھ میں تسبیح ہے یا وہ تہجد و اشراق پڑھتا ہے، بظاہر ابرار و اخیار کے کام کرتا ہے تو اس کو نیک سمجھ لیتا ہے مگر خدا تعالیٰ کو تو پوست پسند نہیں۔( حاشیہ میں درج ہے : ایک انسان تو اس سے دھو کہ کھا سکتا ہے مگر خدا تعالیٰ نہیں کھا سکتا کیونکہ اُس کی نظر پوست پر نہیں ہے۔وہ تو روحانیت کو چاہتا ہے جو کہ مغز ہے نہ کہ قشر کو یہ پوست اور قشر ہے اللہ تعالی اس کو پسند نہیں کرتا اور کبھی راضی نہیں ہوتا جب تک 129