حقیقتِ نماز — Page 108
حقیقت نماز ہے۔اس کا نام صلوۃ ہے۔پس یہی وہ صلوۃ ہے جو سیقات کو جسم کر جاتی ہے اور اپنی جگہ ایک نور اور چمک چھوڑ دیتی ہے جو سالک کو راستہ کے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے اور ہر قسم کے خس و خاشاک اور ٹھوکر کے پتھروں اور خار و خس سے جو اس کی راہ میں ہوتی ہیں، آگاہ کر کے بچاتی ہے اور یہی وہ حالت ہے جبکہ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَر (سورۃ العنکبوت ۴۶) کا اطلاق اس پر ہوتا ہے۔کیونکر اُس کے ہاتھ میں نہیں اُس کے دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہوا ہوتا ہے اور یہ درجہ کامل تذلل ، کامل نیستی اور فروتنی اور پوری اطاعت سے حاصل ہوتا ہے۔پھر گناہ کا خیال اُسے کیوں کر آسکتا ہے اور انکار اس میں پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔فحشاء کی طرف اس کی نظر اٹھ ہی نہیں سکتی۔غرض ایک ایسی لذت، ایسا سرور حاصل ہوتا ہے کہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اُسے کیوں کر بیان کروں۔۔نماز اور تو حید کچھ ہی کہو کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے، اس وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اُس میں نیستی اور تذلیل کی رُوح اور حنیف دل نہ ہو۔سنو! وہ دعا جس کے لئے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْلَكُمْ (المومن ۶۱ ) فرمایا ہے اِس کے لئے یہی سچی روح مطلوب ہے۔اگر اس میں تضرع اور خشوع میں حقیقی روح نہیں تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں ہے۔“ (ملفوظات جلداول صفحه 107-101 مطبوعہ 2010ء) 66 108