حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 92 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 92

۹۲ بائیبل کی اس پیشگوئی میں آئندہ آنے والے کے متعلق خدا تعالیٰ حضرت موسی اور آپ کی اُمت کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ میں اُن کے لئے اُن کے بھائیوں میں سے تجھے سا ایک نبی بر پا کرونگا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا۔اور یہ تو ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ موسی کا تعلق بنی اسرائیل سے ہے اور بنی اسرائیل کے بھائی بنی اسماعیل کہلاتے ہیں اس میں یہ واضح اشارہ موجود تھا کہ آئندہ آنے والا نبی بنی اسماعیل سے آئے گا۔اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا“ سے مُراد یہ ہے کہ وہ صاحب شریعت ہوگا اور خدا کی باتوں کوٹن کر لوگوں کو بتائے گا۔پھر فرمایا کہ ” خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی بر پا کرے گا یہ نہیں فرمایا کہ میرے بھائیوں میں میرے درمیان سے بلکہ فرمایا کہ تیرے بھائیوں میں تیرے درمیان سے آئے گا مگر وہ ہوگا میری مانند۔حضرت موسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت تھے اس لئے آنے والا لا زما صاحب شریعت اور بنی اسماعیل سے تیرے بھائیوں میں سے ہی ہوگا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صاحب شریعت اور بنی اسماعیل میں سے تھے۔اسی طرح بائبل میں ایک جگہ لکھا ہے کہ : ” ہمارے لئے ایک لڑکا تولّد ہوا اور ہم کو ایک بیٹا بخشا گیا اور سلطنت اُس کے کاندھے پر ہوگی اور وہ اس نام سے کہلا تا ہے عجیب مشیر خدائے قادر ابدیت کا باپ سلامتی کا شاہزادہ۔اس کی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہا نہ ہوگی وہ داؤد کے تخت پر اور اس کی مملکت پر آج سے لیکر ابد تک ہندو بست کرے گا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قیام بخشے گا رب الافواج کی غیوری یہ کرے گی۔“ (یسعیاہ باب ۹ آیت ۷،۶) یسعیاہ باب ۷ آیت ۱۴ میں حضرت مسیح کے بارے میں پیشگوئی موجود ہے کہ کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا جنے گی لیکن باب 9 میں ایک دوسرے لڑکے کے پیدا ہونے