حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 91
۹۱ کے پہاڑی علاقہ ہی سے مکہ میں داخل ہوئے تھے اس طرح یہ بات پوری ہوئی کہ فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا اسی طرح تاریخ سے تھوڑی بھی واقفیت رکھنے والا جانتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے وقت مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت آپ کے ساتھ دس ہزار صحابی تھے اس سے یہ بات پوری ہوئی کہ دس ہزار قد وسیوں کے ساتھ آیا پھر مذہبی معلومات رکھنے والے بھی یہ جانتے ہیں کہ آپ ایک شریعت لیکر آئے جو قرآن کریم کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے اس سے یہ بات پوری ہوئی کہ اس کے دہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت اُن کے لئے تھی، کوئی بھی مسیحی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فاران سے ظاہر ہوئے تھے اور دس ہزار شاگردوں کے ساتھ آئے تھے اور بعثت کے ساتھ ہی آپ پر شریعت بھی نازل ہوئی تھی۔پس حقائق یہی ثابت کرتے ہیں کہ یہ پیشگوئی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے ساتھ پوری ہوئی ہے۔اسی طرح بائیبل میں ایک جگہ لکھا ہے کہ :- وو خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی بر پا کرے گا تم اُس کی طرف کان دھر یو اس سب کی مانند جو تو نے خداوند اپنے خدا سے حورب میں مجمع کے دن مانگا اور کہا کہ ایسا نہ ہو کہ میں خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سنوں اور ایسی شدت کی آگ میں پھر دیکھوں تا کہ میں مر نہ جاؤں اور خداوند نے مجھے کہا کہ اُنہوں نے جو کچھ کہا سو اچھا کہا۔میں ان کے لئے اُن کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پاکروں گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالونگا اور جو کچھ میں اُسے فرما ؤ نگا وہ اُن سے کہے گا۔اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سُنے گا تو میں اُس کا حساب اُس سے لونگا۔“ استثناء باب ۱۸ آیت ۱۵ تا ۱۹)