حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 74 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 74

۷۴ IN THE MOGHAL EMPIRE) میں لکھا ہے کہ :- " غالباً (اسرائیلی) قوم کے لوگ ( چین کے علاقہ ) پیکن میں بھی پائے جاتے ہیں یہ لوگ حضرت موسی کے مذہب پر عمل کرتے ہیں اور تو رات نیز اس سلسلے کی بعض دیگر کتب ان کی زیر مطالعہ رہتی ہیں۔“ (THE TRAVEL IN THE MOGHAL EMPIRE BY MR۔BERNIER PUBLISHERS ARCHIBALD CONSLABLE- LONDON 1891) اسی طرح ٹیکسلا میں بھی اسرائیلی نسل کے آثار موجود ہیں پھر ہندوستان میں مدراس اور مالا بار کے علاقہ میں پھر ممبئی میں بھی یہود آباد ہیں ان کو کالے یہودی کہا جاتا ہے۔حضرت مسیح کے مشہور حواری تھو ما مسیح کو تلاش کرتے اور لوگوں میں تبلیغ کرتے اسی علاقہ میں فوت ہوئے تھے اور اُن کی قبر میلا پورم میں موجود ہے اور آج بھی مسیحی اُن کی قبر کی زیارت کو عظیم جانتے ہیں۔چنانچہ ایک ممتاز مغربی محقق ڈاکٹر این ایچ گاڈ بے (Dr۔Allen H۔Godbey) لکھتے ہیں کہ :- ہندوستان میں بھی بمبئی اور کو چین کے علاقہ میں جو کالے یہودی پائے جاتے ہیں انہی کے کچھ گر وہ ہندوستان کے مغربی ساحل پر بھی آباد ہیں اور زمانہ قبل مسیح سے آباد ہیں۔(THE LOST TRIBES, AMYTH CHAPTER XII DUKE, UNIVERSITY PRESS 1980 BY DR۔ALLEN H۔GODBEY AND "JESUS IN ROME" P۔85) -: حضرت مسیح کے اس قول کو پھر پڑھیں کہ میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔“ اس بات کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ آپ فلسطین کے یہود کو چھوڑ کر اور اپنے حواریوں کو وہاں چھوڑ کر خاموشی سے ان کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں نکلتے بخت نصر کے حملہ سے اکثر