حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 72
حقائق بالمیل اور مسیحیت دوسروں کی نظر سے اوجھل کر دیتی ہے۔حضرت مسیح چونکہ اپنے شاگردوں سے ملاقات کر کے وہاں سے کسی غیر معروف جگہ کی طرف ہجرت کرنا چاہتے تھے۔اس لئے انہوں نے ایک تو شاگردوں کو پہاڑ پر بلایا اور پھر کہر کا فائدہ حاصل کرتے ہوئے پہاڑ پر چڑھے اور کہر میں اوجھل ہو گئے جس سے دیکھنے والوں کو یہی نظر آیا کہ آپ آسمان پر چلے گئے ہیں۔پھر دیکھا جائے تو ایک شخص کے اچانک غائب ہونے پر بھی یہ جملہ بولا جاتا ہے کہ ایسا غائب ہوا کہ نا معلوم اس کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا۔ان تمام شہادتوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مسیح آسمان پر نہیں گئے بلکہ آپ نے شاگردوں سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کسی نامعلوم جگہ کی طرف جہاں بنی اسرائیل آباد تھے ہجرت فرمائی تھی۔اس بات کی صداقت کو میں اگلے صفحات میں بیان کروں گا۔کسی بھی قوم کا نسب یا تو اس کی محفوظ تاریخ سے جانا جاتا ہے یا پھر اس کی نسبت کو جاننے کے لئے اُن کے طور طریق رہن سہن اور نین نقش نیز عادات و خصائل کو دیکھا جاتا ہے اور یہ قومیت کی ایک خاص پہچان ہوا کرتی ہے۔یہ تو ایک تاریخی حقیقت ہے کہ فلسطین (یروشلم) پر بخت نصر کے حملہ کے بعد بنی اسرائیل کے دس قبیلے وہاں سے بھاگ گئے تھے اور کسی دوسری جگہ اُنہوں نے بود و باش اختیار کر لی تھی۔تاریخ سے ہمیں بعض قبیلوں کا علم حاصل ہوتا ہے جو بنی اسرائیل تھے۔جو کہ حسب ذیل ہیں۔ایک مغربی محقق و مصنف سرائے برنس (SIR۔A۔BURNES) نے افغانوں کی تاریخ کے بارے میں تحقیق کرنے کے بعد یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ کس نسل سے تعلق رکھتے تھے۔اس نے افغانوں کی روایات کے مطابق یہ لکھا ہے کہ اُن کا کہنا ہے کہ بابل کا ایک بادشاہ اُن کے اکابر کو ارض مقدس ( فلسطین) سے گرفتار کر کے لایا تھا اور ان کو کابل کے شمال مغرب میں غور (Ghore) مقام پر بسا دیا تھا۔اس طرح اُنہوں نے