حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 71 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 71

نہیں جا سکتا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ میچ ہی کہیں کہ کوئی آسمان پر نہیں جاسکتا اور خود آسمان پر چلے جائیں جبکہ آپ حضرت مریم کے بطن سے پیدا ہوئے اور اسی زمین پر پیدا ہوئے تھے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح کی شہرت دن بدن زیادہ ہوتی جاتی تھی آپ یہود کے ڈر سے بھیس بدل بدل کر رہ رہے تھے تو آپ نے چاہا کہ آپ کسی طرف خاموشی سے نکل جائیں اس طرح کہ کسی کے علم میں بھی نہ ہو اور ان قبائل کو تلاش کریں جو بخت نصر کے حملہ سے بکھر گئے تھے اور جن کے متعلق آپ بار بار کہتے تھے کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لئے بھیجا گیا ہوں۔حضرت مسیح علیہ السلام کو جن دنوں صلیب دی گئی وہ سردی کے دن تھے اس کی خود بائبل شہادت دیتی ہے اور مسیحی بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ دن سردی ہی کے تھے لکھا ہے کہ :- نوکر اور پیادے جاڑے کے سبب سے کوئلے دھکا کر کھڑے تاپ رہے تھے۔اور پطرس بھی اُنکے ساتھ کھڑا تاپ رہا تھا۔“ (یوحنا باب ۱۸ آیت ۱۸) اس بات سے تمام وہ لوگ واقف ہیں جو سرد علاقوں کے رہنے والے یا سرد علاقوں میں جانے والے ہیں کہ سردی کے دنوں میں کہر بہت پڑتی ہے اور اپنی کثرت کی بنا پر بادل کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور اس قدر گہری ہوتی ہے کہ قریب کا آدمی بھی دکھائی نہیں دیتا۔پھر پہاڑ کے دامن میں کہر بہت ہی زیادہ ہوتی ہے۔اوپر کے حوالوں سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں کو ملاقات کے لئے پہاڑ پر بلا یا تھا۔ایسی صورت میں جب کبر پڑی ہوئی ہو اور کوئی آدمی پہاڑ پر چڑھ رہا ہو تو دیکھنے والے کو ایسا ہی دکھائی دے گا کہ گویا وہ بادل میں ہو کر آسمان پر جاتا ہے۔اور پھر کچھ ہی دوری طے کرنے پر کہر آدمی کو