حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 66
۶۶ دوسری صورت میں گویا کہ آپ نے یقینی طور پر اپنا حلیہ تبدیل کیا ہوا تھا تبھی تو دوسری صورت میں نظر آتے تھے۔اور یہ بات اُوپر کے سب حوالوں کی تشریح کو درست ثابت کرتی ہے۔اس طرح بائیل ایک اور شہادت پیش کرتی ہے کہ :- " جب وہ تنہائی میں دُعا مانگ رہا تھا اور شاگرد اس کے پاس تھے تو ایسا ہوا کہ اُس نے اُن سے پوچھا کہ لوگ مجھے کیا کہتے ہیں انہوں نے جواب میں کہا یوحنا بپتسمہ دینے والا اور بعض ایلیا کہتے ہیں اور بعض یہ کہ قدیم نبیوں میں سے کوئی جی اُٹھا ہے۔اس نے اُن سے کہا لیکن تم مجھے کیا کہتے ہو؟ پطرس نے جواب میں کہا کہ خدا کا مسیح۔اُس نے اُن کو تاکید کر کے حکم دیا کہ یہ کسی سے نہ کہنا۔(لوقا باب ۹ آیت ۱۸ تا ۲۲) اس حوالہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آپ نے اپنا حلیہ تبدیل کیا ہوا تھا اس لئے لوگوں کی آراء مختلف تھیں لیکن پطرس جو کہ آپ کو اچھی طرح جانتا تھا اُس نے آپ کو یہی کہا کہ میں تو آپ کو خدا کا مسیح کہتا ہوں چونکہ پطرس کی بات سے سب شاگردوں پر یہ بات عام ہوگئی تھی اس لئے آپ نے اُن کو یہ تاکید کر کے حکم دے دیا کہ وہ یہ بات کسی سے نہ کہیں کہ میں مسیح ہوں۔اس طرح آپ نے لوگوں پر اس راز کے افشاں نہ کرنے اور نہ ہونے کی تاکید کی اس بات سے بھی یہ ثابت ہے کہ آپ نے واقعہ صلیب کے بعد اپنا حلیہ تبدیل کر لیا تھا۔اور بائبل خود بھی ” دوسری صورت کی نشان دہی اسی حوالہ کے ساتھ کرتی ہے۔حضرت مسیح کے پوشیدہ طور پر رہنے اور ویرانہ میں رہنے کی بھی شہادتیں بائبل میں موجود ہیں لکھا ہے کہ :-