حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 65 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 65

لکھا ہے کہ :- " یسوع نے اُن سے کہا آؤ کھانا کھالو اور شاگردوں میں سے کسی کو جرات نہ ہوئی کہ اُس سے پوچھتا کہ تو کون ہے؟ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خداوند ہی ہے۔“ (یوحنا باب ۲۱ آیت (۱۲) ان دونوں حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اول تو مسیح عام لوگوں میں اور عام جگہوں پر نہ گھوما کرتے تھے بلکہ پوشیدہ رہتے تھے اس لئے لکھا ہے کہ پھر اپنے آپ کو طبر یاس کی جھیل کے کنارے ظاہر کیا۔اگر آپ عوام الناس ہی میں رہتے تو پھر ایسی بات نہ ہوتی اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ چھپ چھپ کر زندگی گزار رہے تھے پھر دوسری بات یہ ظاہر ہوتی ہے کہ آپ اپنا حلیہ بھی تبدیل کر کے رکھتے تھے تا کہ عوام آپ کو پہچان نہ لیں اور صرف شاگر دہی آپ کو جان سکیں۔اس طرح ایک جگہ لکھا ہے کہ :- " جب وہ اُن کے ساتھ کھانے بیٹھا تو ایسا ہوا کہ اُس نے روٹی لیکر برکت چاہی اور توڑ کر ان کو دینے لگا۔اس پر اُن کی آنکھیں کھل گئیں اور اُنہوں نے اُس کو پہچان لیا اور وہ اُن کی نظر سے غائب ہو گیا۔(لوقا باب ۲۴ آیت ۳۱،۳۰) اس میں بھی یہی مضمون ہے کہ آپ اپنا حلیہ ایسا بنا کر رہتے تھے کہ عام لوگوں سے نہ پانے جائیں اس جگہ بھی آپ کی پہچان آپ کے چہرے سے نہیں ہو سکی بلکہ برکت دینے کے معجزے سے ہوئی۔اس طرح لکھا ہے کہ وو -: اس کے بعد وہ دوسری صورت میں ان میں سے دو کو جب وہ دہات کی طرف پیدل جا رہے تھے دکھائی دیا۔( مرقس باب ۱۶ آیت ۱۲) اس حوالہ میں دیکھیں بات کس طرح کھل گئی ہے کہ آپ اگر لوگوں کو نظر آتے تھے تو