حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 38 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 38

جانتا ہے کہ حضرت یونس کو جب سمندر میں ڈالا گیا تھا اور مچھلی نے آپ کو نگلا تھا تو آپ زندہ تھے۔اور تمام مسیحی اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ حضرت یونس کو جب مچھلی نے نگل لیا تو اس کے پیٹ میں بھی آپ زندہ ہی رہے۔اس بات کا ثبوت خود بائبل ہی دیتی ہے جیسا کہ لکھا ہے :- " تب یوناہ نے مچھلی کے پیٹ میں خداوند اپنے خدا سے دعا مانگی۔“ دُعا زندہ ہی مانگتا ہے آپ پیٹ میں زندہ تھے اس لئے آپ خدا کو پکارتے رہے اور دُعا کرتے رہے۔پھر تین دن رات کے بعد جب مچھلی نے خدا کے حکم سے آپ کو خشکی پر اگلا تو اس وقت بھی آپ زندہ ہی تھے۔الغرض تمام مسیحی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں زندہ گئے زندہ ہی رہے او زندہ ہی نکلے۔اور بائبل اسی نشان کو یونس نبی کا نشان مانتی ہے۔حضرت مسیح نے یہ پیشگوئی فرمائی کہ جس طرح یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں زندہ گئے اور زندہ رہے اور زندہ نکلے تھے اسی طرح میں بھی زمین کے پیٹ میں زندہ داخل ہونگا زندہ رہوں گا اوزندہ نکلوں گا۔پس وہ لوگ جو یہ یقین کرتے ہیں کہ مسیح صلیب پر مر گئے تھے اور مردہ حالت میں تین دن رات قبر نما کمرے میں رہے اور پھر زندہ ہوکر باہر نکلے اُن کے نزد یک بائبل میں پیش کیا جانے والا نشان جھوٹا ثابت ہوگا کیونکہ یونس مچھلی کے پیٹ میں زندہ گئے تھے اور سیخ مرکز تو یہ نشان جھوٹا ہوا۔اسی طرح جو لوگ یہ یقین کرتے ہیں کہ مسیح زمین کے پیٹ میں تین دن رات مرے رہے اُن کے نزدیک بھی مسیح کا یہ نشان جھوٹا ثابت ہوگا کیونکہ یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں تین دن رات زندہ ہی رہے تھے۔جب ہر دو باتیں جھوٹ ثابت ہوں تو تیسری خود بخود جھوٹی ہو جاتی ہے کیونکہ یونس نبی مر کر زندہ نہ