حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 37 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 37

۳۷ اس زمانے کے بُرے اور زنا کارلوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یونس کے نشان کے سوا کوئی اور نشان اُن کو نہ دیا جائے گا۔اور وہ اُنہیں چھوڑ کر چلا گیا۔“ متی باب ۱۶ آیت (۴) ایسا ہی حوالہ لوقا باب ۱۱ آیت ۲۹، ۳۰ میں درج ہے۔بائبل کے ان حوالوں کو دیکھ کر یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ مسیح نے آئندہ کے لئے جو نشان دکھانا تھا وہ صرف یونس نبی کا ہی نشان تھا کیونکہ مسیح نے صاف فرمایا ہے کہ یونس کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یونس نبی کا نشان کیا ہے؟ حضرت یونس کو خدا تعالیٰ نے نینوہ والوں کی طرف بھیجا کہ وہ اُن کی ہدایت کرے لیکن جب اُن لوگوں نے انکار کیا تو یونس اُن کو چھوڑ کر کسی اور طرف چل دیئے ایک مقام سے دوسرے مقام پر جانے کے درمیان سمندری سفر تھا جب آپ جہاز میں سوار ہوئے تو سمندر میں طوفان آ گیا۔اس پر جہاز والے گھبرا گئے پھر انہوں نے قرعہ ڈال کر یہ دیکھنا چاہا کہ کس کے سبب سے یہ طوفان آیا ہے تو اس میں حضرت یونس کا نام نکل آیا اس پر اُن لوگوں نے حضرت یونس کو سمندر میں پھینک دیا۔لکھا ہے کہ : وو " پر خداوند نے ایک بڑی مچھلی مقر رکر رکھی تھی کہ یوناہ کو نگل جائے اور یوناہ تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔تب یوناہ نے مچھلی کے پیٹ میں خداوند اپنے خدا سے دُعا مانگی اور کہا کہ۔میں نے اپنی بپت میں خداوند کو پکارا اور اُس نے میری سُنی ہاں میں پاتال کے بطن میں سے چلا یا اور تو نے میری آواز سنی کیونکہ تو ہی نے مجھے گہراؤ میں سمندر کے درمیان ڈالا۔۔۔۔۔۔۔اور خداوند نے مچھلی کو کہا اور اُس نے یوناہ کو خشکی پر اگل دیا۔“ یوناه بابا آیت ۷ ا باب ۲ آیت ۱ تا ۳ و ۱۰) بائبل کے ماننے والے یونس نبی کے اس نشان سے بخوبی واقف ہیں اور ہر شخص یہ