حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 29
۲۹ فائدہ بھی ہوا ؟ اور جس غرض کے لئے کفارہ دیا گیا تھا کیا وہ غرض پوری بھی ہوئی یا نہیں؟ پادری صاحبان سے بات کرتے وقت جب ہم اس مقام پر پہنچتے ہیں تو اُن کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ کفارہ کا فائدہ اُس کو ہوگا جو ایمان لائے گا اور جو ایمان نہیں لاتا اس کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔پادری صاحب کی یہ بات بالکل حق اور انصاف پر مبنی ہے جو کھائے گا اُسی کا پیٹ بھرے گا ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں کھاؤں اور پیٹ دوسرے کا بھرے۔چاہے پادری صاحبان کی یہ بات اُن کے اپنے عقیدہ کفارہ کے الٹ ہی جاتی ہے کہ مسیح صلیب پر مریں اور نجات دوسروں کی ہو۔لیکن ہم یہ مان کر چلتے ہیں کہ ٹھیک ہے جو ایمان لائے گا کفارہ اُسی کو فائدہ دے گا۔سوال صرف اتنا ہے کہ کیا واقعی ایمان لے آنے سے فائدہ ہوا؟ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ کفارہ کی ضرورت کیوں پیش آئی اس کا پہلے بھی ذکر آچکا ہے کہ ضرورت اس لئے پیش آئی کہ آدم نے ایک گناہ کیا تھا خدا نے اُسے ایک درخت کا پھل کھانے سے منع کیا تھا لیکن اُس نے خدا کے حکم کو توڑتے ہوئے اُس کا پھل کھایا۔اور یہ گناہ آدم کی نسل میں چل پڑا۔خدا نے چاہا کہ وہ گناہ بنی آدم سے ختم ہو جائے تب اُس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو بھیجا کہ وہ اس گناہ کا کفارہ کرے اور اس گناہ سے لوگوں کو نجات دے۔اس پر مسیح نے تمام بنی آدم کے گناہوں کو اپنے سر لیا اور خود لعنتی بن کر دوسروں کو لعنت سے بچایا۔یہ وہ عقیدہ ہے جس پر مسیحیت قائم ہے۔سب سے پہلے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ آدم نے آخر کون سا گناہ کیا تھا اور اس کی سزا کیا مقرر ہوئی لکھا ہے کہ :- ” اور سانپ میدان کے سب جانوروں سے جنہیں خداوند خدا نے بنایا تھا ہوشیار تھا۔اور اُس نے عورت سے کہا کیا یہ سچ ہے کہ خدا نے کہا کہ باغ کے ہر درخت سے نہ کھانا۔عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل ہم تو کھاتے ہیں۔مگر اس درخت کے پھل کو جو باغ کے بیچوں بیچ ہے خدا نے کہا کہ تم اس سے نہ کھانا اور نہ اُسے چھونا ایسا نہ ہو کہ مرجاؤ۔تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم