حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 8
محاورہ کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ایک جگہ نہیں بلکہ بائیبل میں متعد دجگہ بیٹے کا لفظ آیا ہے اور یہ ایک پیار کا اظہار ہے۔عام بول چال میں بھی لوگ غیر سے محبت کے اظہار کے طور پر بیٹے کا لفظ استعمال کرتے ہیں جبکہ بیٹا کا لفظ صلبی مرد اولاد کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کو بھی محبت کی بناء پر بیٹا کہا جائے وہ صلبی بیٹا نہیں بن جاتا۔پھر بائیل جگہ جگہ اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ خدا ایک ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں تو پھر حقیقی بیٹے کا تصور بھی ممکن نہیں۔اگر باپ سے بیٹا ہوسکتا ہے تو پھر لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ بیٹا کسی وقت باپ بھی بن جائے کہ وہ ایک اور بیٹے کو جنم دے۔اس لئے خدا کا بیٹا ہونا عقل کے خلاف بھی ہے۔اگر یسوع کو بیٹے کا لفظ خدا کا حقیقی بیٹا بنا سکتا ہے تو پھر بائیبل میں جس جس کے لئے خدا نے بیٹے کا لفظ استعمال کیا ہے وہ سب بھی حقیقی بیٹے کہلائیں گے۔اگر دوسرے حقیقی بیٹے نہیں بن سکتے تو پھر یسوع کو بھی خدا کا حقیقی بیٹا نہیں کہا جا سکتا۔چنانچہ بائیبل میں لکھا ہے کہ :- وو " تب تو فرعون کو یوں کہیو کہ خداوند نے یوں فرمایا ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا بلکہ میرا پلوٹھا ہے۔“ خروج باب ۴ آیت ۲۲) خدا تعالیٰ نے اس جگہ اسرائیل کو اپنا بیٹا بیان کیا ہے بلکہ لکھا ہے کہ میرا پلوٹھا ہے یعنی پہلا بیٹا ہے لیکن کوئی بھی عیسائی اسرائیل کو خدا کا بیٹا تسلیم نہیں کرتا۔اسی طرح حضرت داؤدعلیہ السلام کے بارے میں آیا ہے کہ :- " میں حکم کو آشکارہ کروں گا کہ خداوند نے میرے حق میں فرمایا ہے کہ تو میرا بیٹا ہے میں آج کے دن تیرا باپ ہوا۔اسی طرح ایک جگہ لکھا ہے :- (زبور باب ۲ آیت ۷ )