حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 7
” یسوع نے جواب دیا کہ اوّل یہ ہے۔اےاسرائیل ٹن۔خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔اور تو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ۔اسی طرح لکھا ہے کہ :- (مرقس باب ۱۲ آیت ۳۰،۲۹) " تم جو ایک دوسرے سے عزبات چاہتے ہو وہ عزت جو خدائے واحد کی طرف سے ہوتی ہے نہیں چاہتے۔کیونکر ایمان لا سکتے ہو؟ (یوحنا باب ۵ آیت ۴۴) نیز لکھا ہے :- ”چنانچہ میں نے سیر کرتے اور تمہارے معبودوں پر غور کرتے وقت ایک ایسی قربان گاہ بھی پائی جس پر لکھا تھا کہ نا معلوم خدا کے لئے۔پس جس کو تم بغیر معلوم کئے پوجتے ہو میں تم کو اسی کی خبر دیتا ہوں جس خدا نے دنیا اور اس کی ساری چیزوں کو پیدا کیا وہ آسمان اور زمین کا مالک ہو کر ہاتھ کے بنائے ہوئے مندروں میں نہیں رہتا۔نہ کسی چیز کا محتاج ہو کر آدمیوں کے ہاتھوں سے خدمت لیتا ہے کیونکہ وہ تو خود سب کو زندگی اور سانس اور سب کچھ دیتا ہے۔اور اس نے ایک ہی اصل سے آدمیوں کی ہر ایک قوم تمام روئے زمین پر رہنے کے لئے پیدا کی اور اُن کی میعادوں اور سکونت کی حدیں مقرر کیں۔تا کہ خدا کو ڈھونڈیں شاید کہ ٹول کر اسے پائیں ہر چند کہ وہ ہم میں کسی سے دُور نہیں۔“ اعمال باب ۱۷ آیت ۲۳ تا ۲۷) الغرض بائیبل میں ایک خدا کی عبادت کرنے ایک خدا کو ماننے کی ہی بات کی گئی ہے جبکہ یسوع کے ماننے والے بائیبل کے اس عقیدہ کے بالکل برعکس لوگوں کے سامنے تین خداؤں کا تصور پیش کرتے ہیں۔ہو سکتا ہے بائیمیل کے ماننے والوں کو جس بات نے مغالطہ میں ڈالا وہ بائیل میں درج لفظ ” بیٹا ہو۔حالانکہ بیٹا کا لفظ بائیل میں ایک