حمد و مناجات — Page 53
3 | 53 میں مشکلات میں ہوں مشکل گشا تو ہی ہے محتاج ہوں میں ترا حاجت روا تو ہی ہے دُکھ درد ہیں ہزاروں رکس کس کا نام لوں میں بندہ ہوں میں تو عاجز میرا خُدا تو ہی ہے نیچے رسول تیرے سچی تری کتابیں سب گمرہوں کا لیکن اک راہ نماتو ہی ہے صد ہا طبیب حاذق لاکھوں ہی ہیں کتابیں لیکن مرے پیارے دل کی دوا تو ہی ہے کچھ بھی ہمیں تو آتا تجھ بن نظر نہیں ہے پوشیدہ بھی تو ہی ہے اور بر ملا تو ہی ہے تیرے سوا نہیں ہے دلدار کوئی ہر گز قربان جس پر دل ہو وہ دلربا تو ہی ہے ہو باپ یا کہ ماں ہو بیوی ہو یا کہ بیٹا! ہیں چار دن کے ساتھی لیکن سدا تو ہی ہے جو تیرے پاس آیا ، اس نے ہی لطف پایا گل بے وفا ہے دُنیا اک با وفا تو ہی ہے جس نے نہ تجھ کو دیکھا بیشک ہے وہ تو اندھا آنکھوں کا نور تو ہی دل کی ضیا تو ہی ہے نیکوں کو نیک رستہ دکھلا رہا ہے تو ہی ہاں فتنہ جو کی خاطر بس فتنہ زا تو ہی ہے جس جس ادا پہ ہوتے فر باں ہیں سب رنگیلے میں تیرے منہ کے صدقے وہ خوش ادا تو ہی ہے