حمد و مناجات — Page 35
35 چشم گردوں نے کبھی پھر نہیں دیکھے وہ لوگ آئے پہلے بھی تو تھے آئے نہ جانے والے رہا ہوں قدم مالک تقدیر کی چاپ آرہے ہیں مری بگردی کے بنانے والے کرو میاری! بس اب آئی تمہاری باری یوں ہی ایام پھرا کرتے ہیں باری باری ہم نے تو صبر و توگل سے گزاری باری ہاں مگر تم پہ بہت ہوگی یہ بھاری باری (جلسہ سالانہ یو کے 1984ء) 3 کیا موج تھی جب دل نے جیسے نام خدا کے اک ذکر کی دھونی مرے سینے میں زما کے آہیں تھیں کہ تھیں ذکر کی گھنگھور گھٹائیں نالے تھے کہ تھے سیل رواں حمد وثنا کے سکھلا دیئے اسلوب بہت صبر ورضا کے اب اور نہ لمبے کریں دن کرب و بلا کے اُکسانے کی خاطر تیری غیرت تیرے بندے کیا مجھ سے دُعاما نگیں ستم گر کو سُنا کے رکھ لاج کچھ ان کی میرے ستار کہ یہ زخم جو دل میں چھپا رکھے ہیں پہلے ہیں حیا کے لاکھوں مرے پیارے تری راہوں کے مسافر پھرتے ہیں تیرے پیار کو سینوں میں بسا کے ہیں کتنے ہی پابند سلاسل وہ گنہگار نکلے تھے جو سینوں پہ ترا نام سجا کے میں اُن سے جدا ہوں مجھے کیوں آئے کہیں چین دل منتظر اُس دن کا کہ ناچے انہیں پاکے عُشاق ترے جن کا قدم تھا قدم صدق جاں دے دی نبھاتے ہوئے پیمان وفا کے چھت اُڑ گئی سایہ نہ رہا کتنے سروں پر ارمانوں کے دن جاتے رہے پیٹھ دکھا کے اتنا تو کریں اُن کو بھی جا کر کبھی دیکھیں ایک ایک کو اپنا کہیں سینے سے لگا کے آداب محبت کے غلاموں کو سکھا کے کیا چھوڑ دیا کرتے ہیں دیوانہ بناکے؟ دیں مجھ کو اجازت کہ کبھی میں بھی تو روٹھوں لطف آپ بھی لیں رُوٹھے غلاموں کو منا کے