حمد و مناجات

by Other Authors

Page 34 of 171

 حمد و مناجات — Page 34

34 2 اے مجھے اپنا پرستار بنانے والے جوت اک پریت کی ہر دے میں جگانے والے سرمدی پریم کی آشاؤں کو دھیرے دھیرے مدھ بھرے سر میں مدھر گیت سنانے والے اے محبت کے امر دیپ جلانے والے پیار کرنے کی مجھے ریت سکھانے والے فُرقت میں کبھی اتنا رُلانے والے کبھی دلداری کے جھولوں میں جھلانے والے دیکھ کر دل کو نکلتا ہوا ہاتھوں سے کبھی رس بھری لوریاں دے دے کے سُلانے والے کیا ادا ہے مرے خالق ، مرے مالک ، مرے گھر چُھپ کے چوروں کی طرح رات کو آنے والے راہ گیروں کے بسیروں میں ٹھکانا کر کے بے ٹھکانوں کو بنا ڈالا ٹھکانے والے مُجھ سے بڑھ کر مری بخشش کے بہانوں کی تلاش کس نے دیکھے تھے کبھی ایسے بہانے والے تو تو ایسا نہیں محبوب کوئی اور ہوں گے وہ جو کہلاتے ہیں دل توڑ کے جانے والے تو تو ہر بار سر راہ سے پکٹ آتا ہے دل میں ہر سمت سے پل پل مرے آنے والے مجھ سے بھی تو کبھی کہہ رَاضِيَة مَرْضِيَّة رُوح بے تاب ہے رُوحوں کو بُلانے والے اس طرف بھی ہو کبھی کاشف اسرار، نگاہ ہم بھی ہیں ایک تمنا کے چھپانے والے اے میرے درد کو سینے میں بسانے والے اپنی پلکوں پہ مرے اشک سجانے والے خاک آلوده، پراگندہ، زبوں حالوں کو کھینچ کر قدموں سے زانو پہ بٹھانے والے میں کہاں اور کہاں حرف شکایت آقا ہاں یوں ہی ہول سے اُٹھتے ہیں ستانے والے ہو اجازت تو ترے پاؤں پہ سر رکھ کے کہوں کیا ہوئے دن تیری غیرت کے دکھانے والے یہ نہ ہو روتے ہی رہ جائیں تیرے در کے فقیر اور ہنس ہنس کے روانہ ہوں رُلانے والے ہم نہ ہونگے تو ہمیں کیا؟ کوئی گل کیا دیکھے آج دکھلا جو دکھانا ہے دکھانے والے وقت ہے وقتِ مسیحا نہ کسی اور کا وقت کون ہیں یہ تیری تحریر مٹانے والے چھین لے ان سے زمانے کی عناں، مالک وقت بنے پھرتے ہیں، کم اوقات، زمانے والے