حمد و مناجات

by Other Authors

Page 30 of 171

 حمد و مناجات — Page 30

30 وہی ہے راحت و آرام دل کا اُسی سے روح کو ہے شاد مانی وہی ہے چارہ آلام ظاہر وہی تسکیں ده درد نہانی سپر بنتا ہے وہ ہر ناتواں کی وہی کرتا ہے اس کی پاسبانی بچاتا ہے ہر اک آفت سے ان کو ٹلاتا ہے جسے اُس پاک سے رشتہ نہیں ہے زمینی ہے اُسی کو پاکے سب کچھ ہم نے پایا کھلا ہے ہم نہیں بلائے وہ ناگہانی آسمانی یہ راز نهانی خدا نے ہم کو دی ہے کامرانی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَوْفَى الْأَمَانِي اخبار الحکم جلد 5، 12 جولائی 1911ء) 4 مری رات دن بس یہی اک صدا ہے کہ اس عالم کون کا اک خدا ہے اُسی نے ہے پیدا کیااس جہاں کو ستاروں کو سورج کو اور آسماں کو وہ ہے ایک اُس کا نہیں کوئی ہمسر وہ مالک ہے سب کا وہ حاکم ہے سب پر نہ ہے باپ اُس کا نہ ہے کوئی بیٹا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا نہیں اُس کو حاجت کوئی بیویوں کی ضرورت نہیں اُسکو کچھ ساتھیوں کی ہر اک چیز پر اُس کو قدرت ہے حاصل ہر کام کی اس کو طاقت ہے حاصل پہاڑوں کو اُس نے ہی اُونچا کیا ہے سمندر کو اُس نے ہی پانی دیا ہے یہ دریا جو چاروں طرف بہہ رہے ہیں اُسی نے تو قدرت سے پیدا کئے ہیں سمندر کی مچھلی ہوا کے پرندے گھریلو چرندے بنوں کے درندے سبھی کو وہی رزق پہنچا رہا ہے ہراک اپنے مطلب کی شئے کھا رہا ہے